ملفوظات (جلد 5) — Page 217
فرمایا وہ خدا جو کہ عرصہ سے مخفی چلاآتاتھا اب نقاب اُٹھا کر چہرہ دکھا رہا ہے۔کیا آج تک کسی نے ایسا بولتا خدا دیکھا تھا جیسے کہ اب رات دن بول رہا ہے۔موجودہ زمانہ کے گدی نشین جو کہ دینی ضرورتوں سے غافل ہیں۔ان کے ذکر پر فرمایا کہ اگر پیغمبر خدا یونہی ایک فقیر کی طرح گدی پر بیٹھے رہتے۔تو صریح کامیابی جو کہ آپ نے دنیا میں دیکھ لی کیسے نظر آتی۔طاعون۱ کا ظاہر ہونا بھی خدا کی رحمت ہے۔رَحْمَةٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ(الانبیآء:۱۰۸) اس وقت آنحضرت پر صادق آتا ہے کہ جب آپ ہر ایک قسم کے خُلق سے ہدایت کو پیش کرتے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپؐنے اخلاق، صبر، نرمی اور نیز مار، ہر ایک طرح سے اصلاح کے کام کو پورا کیا اور لوگوں کو خدا کی طرف توجہ دلائی۔مال دینے میں، نرمی برتنے میں، عقلی دلائل اور معجزات کے پیش کرنے میں آپ نے کوئی فرق نہیں رکھا۔اصلاح کا ایک طریق مار بھی ہوتا ہے کہ جیسے ماں ایک وقت بچے کو مارسے ڈراتی ہے وہ بھی آپ نے برت لیا۔تو مار بھی ایک خدا کی رحمت ہے کہ جو آدمی اَور کسی طریق سے نہیں سمجھتے خدا ان کو اس طریق سے سمجھاتا ہے کہ وہ نجات پاویں۔خدا تعالیٰ نے چار صفات جو مقرر کی ہیں جو کہ سورہ فاتحہ کے شروع میں ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں سے کام لے کر تبلیغ کی ہے۔مثلاًپہلے رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی عام ربوبیت ہے تو آیت مَاۤاَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیآء:۱۰۸)اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔پھر ایک جلوہ رحمانیت کا بھی ہے کہ آپ کے فیضان کا بدل نہیں ہے۔ایسی ہی دوسری صفات۔۲ ۱ یہاں سے لے کر اخیر تک جو مضمون البدر میں ہے۔۱۶ جولائی کی ڈائری میں درج ہے۔یہی مضمون الفاظ کے ردو بدل کے ساتھ الحکم میں ۲۱ جولائی کی ڈائری میں درج ہے۔غالباً دو ڈائری نویس صاحبان میں سے کسی ایک سے سہو ًا ایسا ہوگیا ہے۔یعنی یا تو ۱۶ جولائی کی ڈائری غلطی سے ۲۱ جولائی کی ڈائری میں درج کر دی گئی ہے اور یا ۲۱؍جولائی کی ڈائری سہواً ۱۶ جولائی کی ڈائری میں درج ہوگئی ہے۔واللہ اعلم (مرتّب) ۲ البدر جلد۲نمبر۲۹مورخہ۷؍اگست۱۹۰۳ء صفحہ۲۲۵،۲۲۶