ملفوظات (جلد 5) — Page 205
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہؓ خدا ذات کو نہیں پوچھے گا۔اگر تم کوئی برا کام کرو گی تو خدا تم سے اس واسطے درگذر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔پس چاہیے کہ تم ہر وقت اپناکام دیکھ کرکیا کرو۔اگر کوئی چوڑھا اچھا کام کرے گا تو وہ بخشا جاوے گا اور اگر سید ہو کر کوئی برا کام کرے گا تو وہ دوزخ میں ڈالا جاوے گا۔حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے واسطے دعا کی وہ منظور نہ ہوئی۔حدیث میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام قیامت کو کہیں گے کہ اے اللہ تعالیٰ میں اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ نہیں سکتا۔مگر اس کو پھر بھی رسہ ڈال کر دوزخ کی طرف گھسیٹ کر ذلّت کے ساتھ لے جاویں گے (یہ عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہے کہ پیغمبرکی سفارش بھی کارگر نہ ہوگی) کیونکہ اس نے تکبر کیا تھا۔پیغمبروں نے غریبی کو اختیار کیا۔جو شخص غریبی کو اختیار کرے گا وہ سب سے اچھا رہے گا۔ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبی کو اختیار کیا۔کوئی شخص عیسائی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔حضرت نے اس کی بہت تواضع خاطر داری کی۔وہ بہت بھوکا تھا۔حضرت نے اس کو خوب کھلایا کہ اس کا پیٹ بہت بھر گیا۔رات کو اپنی رضائی عنایت فرمائی۔جب وہ سو گیا تو اس کو بہت زور سے دست آیا کہ وہ روک نہ سکا اور رضائی میں ہی کردیا۔جب صبح ہوئی تو اس نے سوچا کہ میری حالت کو دیکھ کر کراہت کریں گے شرم کے مارے وہ نکل کر چلا گیا۔جب لوگوں نے دیکھا تو حضرت سے عرض کی کہ جو نصرانی عیسائی تھا وہ رضائی کو خراب کر گیا ہے۔اس میں دست پھرا ہوا ہے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ مجھے دو تاکہ میں صاف کروں۔لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیوں تکلیف اُٹھاتے ہیں۔ہم جو حاضر ہیں ہم صاف کردیں گے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ میرا مہمان تھا اس لیے میرا ہی کام ہے اور اُٹھ کر پانی منگا کر خود ہی صاف کرنے لگے۔وہ عیسائی جبکہ ایک کوس نکل گیا تو اس کو یاد آیا کہ اس کے پاس جو سونے کی صلیب تھی وہ چارپائی پر بھول آیا ہوں۔اس لیے وہ واپس آیا تو دیکھا کہ حضرت اس کے پاخانہ کو رضائی پر سے خود صاف کر رہے ہیں۔اس کو ندامت آئی اور کہا کہ اگر میرے پاس یہ ہوتی تو میں کبھی اس کو نہ دھوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ ایسا شخص کہ جس میں اتنی بے نفسی ہے وہ خدا تعالیٰ کی