ملفوظات (جلد 5) — Page 204
تیسری مرتبہ جگایا تو اس نے اُٹھ کر اس کو خوب مارا اور کہا کم بخت جب ایک مرتبہ نہیں اُٹھا تو تجھے معلوم نہ ہوا کہ ابھی نہ اُٹھوں گا پھر کیوں جگایا؟ اور اتنا مارا کہ وہ بے چارا بے ہوش ہو گیا۔آپ ہی تو مولوی سے وعظ سن کر اس کو کہا تھا کہ مجھ کو اُٹھا دینا پھر جب اس نے جگا یا تو اس بچارے کی شامت آئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کے پاس بہت ساحصہ جاگیر کا ہوتا ہے وہ ایسے غافل ہو جاتے ہیں کہ حق اللہ کا ان کو خیال نہیں آتا۔امراء میں بہت سا حصہ تکبر کا ہوتا ہے جس کی وجہ سے عبادت نہیں کرسکتے اور نہ دوسرا حصہ خلقت کی خدمت کاان سے ادا ہوتا ہے خلقت کی خدمت کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی غریب آدمی سلام کرتا ہے تو بھی برا مناتے ہیں ایسا ہی عورتوں کا حال ہے کوئی چھوٹی عورت آوے تو چاہیے کہ بڑی کو سلام کرے۔یہ دوٹکڑے شریعت کے ہیں حق اللہ اور حق العباد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کہ کس قدر خدمات میں عمر کو گذارا۔اور حضرت علیؓ کی حالت کو دیکھو کہ اتنے پیوند لگائے کہ جگہ نہ رہی۔حضرت ابوبکرؓ نے ایک بڑھیا کو ہمیشہ حلوہ کھلانا وطیرہ کر رکھا تھا۔غور کرو کہ یہ کس قدر التزام تھا کہ جب آپ فوت ہو گئے تو اس بڑھیا نے کہا کہ آج ابوبکرؓ فوت ہو گیا اس کے پڑوسیوں نے کہا کہ کیا تجھ کو الہام ہوا یا وحی ہوئی؟ تو اس نے کہا نہیں آج حلوالے کر نہیں آیا اس واسطے معلوم ہو اکہ فوت ہو گیا (یعنی زندگی میں ممکن نہ تھاکہ کسی حالت میں بھی حلوانہ پہنچے) دیکھو کس قدر خدمت تھی ایسا ہی سب کو چاہیے کہ خدمت ِخلق کرے۔ایک بادشاہ اپنا گذارہ قرآن شریف لکھ کر کیا کرتا تھا۔اگر کسی کو کسی سے کراہت ہووے اگرچہ کپڑے سے ہو یا کسی اور چیز سے ہو تو چاہیے کہ وہ اس سے الگ ہو جاوے مگر روبرو ذکر نہ کرے کہ یہ دل شکنی ہے اور دل کا شکستہ کرنا گناہ ہے اگر کھاناکھانے کو کسی کے ساتھ جی نہیں کرتا تو کسی اور بہانہ سے الگ ہو جاوے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْتَاتًا (النّور:۶۲) مگر اظہار نہ کرے۔یہ اچھا نہیں اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔اسی طرح چاہیے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کوہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔