ملفوظات (جلد 5) — Page 184
تینوں نے کہا کہ اب تو نیک کام ہی بچا ئیں گے چنانچہ ایک نے کہا کہ ایک دفعہ میں نے مزدور لگائے تھے مزدوری کے وقت ان میں سے ایک مزدور کہیں چلا گیا میں نے بہت ڈھونڈا آخر نہ ملا پھر میں نے اس کی مزدوری سے کوئی بکری خرید ی اور اس طرح چند سال تک ایک بڑا گلہ ہو گیا پھر وہ آیا اس نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ آپ کی مزدوری کی تھی اگر آپ دیں تو عین مہربانی ہو گی میں نے اس کا تمام مال اس کے سپرد کر دیا اے اللہ اگر تجھے میرا یہ نیک عمل پسند ہے تو میری مشکل آسان کر اتنے میں تھوڑا پتھر اونچا ہو گیا۔پھر دوسرے نے اپنا قصہ بیان کیا۱ اور پھر بولا کہ اے اللہ اگر میری یہ نیکی تجھے پسند ہے تو میری مشکل آسان کر پھر پتھر ذرا اور اونچا ہو گیا۔پھرتیسرے نے کہا کہ میری ماں بوڑھی تھی ایک رات کو اس نے پانی طلب کیا میں جب پانی لا یا تو وہ سو چکی تھی میں نے اس کو نہ اٹھایا کہ کہیں اس کو تکلیف نہ ہو اور وہ پانی لیے تمام رات کھڑا رہا۔صبح اٹھی تو اسے دے دیا۔اے اللہ اگر تجھے میری یہ نیکی پسند ہے تو مشکل کو دور کر پھر اس قدر پتھر اونچا ہو گیا کہ وہ سب نکل گئے اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو نیکی کا بدلہ دیا۔۱ ۲۶؍جون ۱۹۰۳ء (دربارِشام) ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے فرمایا۔۲ اسلام کادعویٰ کرنا اور میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرنا ۱ نقل مطابق اصل۔الحکم میں یہ الفاظ ہیں۔’’قرآن شریف میں جو ترکیب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے استمرار پر دلالت کرتی ہے۔‘‘(الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ ) ۲ الحکم سے۔’’پس آدم علیہ السلام سے پہلے مخلوق ضرور تھی۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ ) ۳ الحکم میں سے۔’’کوئی آدمی نہ بچا ہو۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ )