ملفوظات (جلد 5) — Page 183
وہ اس کا بدلہ پالیتا ہے۔ایک یہودی نے کسی شخص کو کہا کہ میں تجھے جادوسکھلا دوں گا شرط یہ ہے کہ تو کوئی بھلائی نہ کرے جب دنوں کی تعدا د پوری ہو گئی اور جادو نہ سیکھ سکاتو یہودی نے کہا کہ تو نے ان دنوں میں ضرور کوئی بھلائی کی ہے۔جس کی وجہ سے تو نے جادو نہیں سیکھا اس نے کہا کہ میں نے کوئی اچھا کام نہیں کیا سوائے اس کے کہ راستہ میں سے کانٹا اٹھایا اس نے کہا بس یہی تو ہے۔جس کی وجہ سے تو جادو نہ سیکھ سکا۔تب وہ بولا پھر خدا تعالیٰ کی بڑی مہربانیاں ہیں کہ اس نے ذرّہ سی نیکی کے بدلہ بڑے بھاری گناہ سے بچالیا۔اور ہمیں اس خدا تعالیٰ کی ہی پرستش کرنی چاہیے جو کہ ذرّہ سے کام کا بھی اجر دیتا ہے۔خدا وہ ہے کہ انسان اگر کسی کو پانی کا گھونٹ بھی دیتا ہے تو وہ اس کا بدلہ دیتا ہے دیکھو ایک عورت جنگل میں جارہی تھی رستہ میں اس نے ایک پیاسے کتّے کو دیکھا اس نے اپنے بالوں سے رسّہ بناکر کہوہ (کنوئیں) سے پانی کھینچ کراس کتّے کو پلا یا جس پر رسول کریم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کو قبول کر لیا ہے وہ اس کے تمام گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ تمام عمر فاسقہ رہی ہے۔ایک اور قصہ بیان کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تین آدمی پہاڑ پر پھنس گئے تھے وہ اس طرح کہ انہوں نے پہاڑ کی غار میں ٹھکا نا لیا تھا جبکہ ایک پتھر سامنے سے آگرا اور رستہ بند کر لیا تب ان ۱ البدر میں اس کے آگے مزید یوں لکھا ہے۔’’ اس میں اللہ تعالیٰ انسان کو عبرت دیتا ہے کہ دیکھو جب آگ تک اس کی فرمانبردار ہے تو انسان کو کہاں تک فرمانبردا ر ہونا چاہیے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۶) ۲ البدر میں ہے۔’’جب انسان دیر تک ان حکموں پر کار بند رہتا ہے تو اس پر بھی وہ زمانہ آجاتا ہے کہ کہا جاتا ہے قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا (الانبیاء:۷۰) یعنی تو جو مصیبتوں میں جل رہا تھا تو اب ٹھنڈا ہو جا اور اس آگ کی طرح فرمانبردار ہوجا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۶) ۳ الحکم جلد۷ نمبر۲۵مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵ ۴ الحکم میں ہے۔’’ حدیث شریف میں آیا ہے۔وَمِنْ حُسْنِ الْاِسْلَامِ تَرْکُ مَالَا یَعْنِیْہِ پیچ در پیچ غیر مفید امور کو ترک کر دینا بھی اسلام کی خوبی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ )