ملفوظات (جلد 5) — Page 157
آیا حدیث کے فرمو دہ کے مطابق چودہویں صدی کے سر پر مجدّد آیا مگر انہوں نے قبو ل نہ کیا ہزاروں طرح کے حیلے دنیا نے کئے، طرح طرح کی شرارتیں و منصوبے تجویز کئے مگر اللہ تعالیٰ کا جیسا کہ وعدہ تھا اپنے زور آور حملوں سے سچا ئی ظاہر کرتا رہا۔عیسائی لوگ زہرناک کیڑے کی طرح اسلام کے درخت کی جڑ کو کاٹ رہے ہیں۱ مگر علماء کو ذرا بھی خیال نہیں بلکہ اپنے خیالات سے کہ مسیحؑ ز ند ہ آسمان پر ہے اور دو با رہ قیامت سے پہلے آئے گا مدد دے رہے ہیں ان کی لگا تار کوشش یہی ہے کہ اسلام کا نام تک مٹ جائے اور یہ اپنے فاسد عقائد سے ان کو مدد دے رہے ہیں۔دیکھ لو کہ پادریوں نے شہر بہ شہر گاؤں بہ گاؤں مکرو تزویر کا جال پھیلایا ہوا ہے عورتوں اور بچوں تک کمربستہ ہیں کہ کسی طرح ایک عاجزہ کے بیٹے کو خدا بنا کر منوادیں کئی کروڑ کتابیں ردّ ِاسلام میں بنا کر مفت تقسیم کر دیں اس پر بھی مسلمانوں کو غیرت نہ آئی کیا وہ خدا جو کہتا ہے اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰)۔کیا وہ غلط کہتا ہے؟ کیا اسلام کی وہ ابھی حالت نہیں ہوئی جو کسی مصلح ومجدّد کی ضرورت پیدا کرے طرح طرح کے زمینی و آسمانی نشان پورے ہو چکے مگر وہ اب تک منکر ہیں آج تک ۲۹ لاکھ مسلمان مرتد ہوگئے ہیں۔ایک وہ زمانہ تھا کہ اگر ایک شخص مرتد ہوجاتا تھا تو قیامت برپا ہوجاتی تھی جس قدر مسلمان باقی ہیں وہ بھی عیسائیت کے قریب قریب ہی ہیں اگر سو سال تک ایسی ہی حالت رہتی تو اسلام کا نام و نشان زمین سے مٹ جاتا۔۔۔۔لیکن خدا تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ اس نے عین ضرورت کے وقت مجھے مسیح موعود کرکے بھیجا۔یہ بات۱ کوئی بنا وٹی نہیں صدہا نشان خرق عادت کے طور پر آسمان و زمین پر میری تصدیق کے لیے ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں۲ چنانچہ طاعون بھی ایک نشان ہے جس کی بابت کل انبیاء خبر دیتے رہے۔۱ البدر میں ہے۔’’اگر چہ مقابلہ کے وقت اصحا بؓ بھی شہید ہوئے تھے مگر اسلام تو ان کے سا تھ شہید نہ ہو جاتا تھا ہر روز ترقی اسلام کی ہوتی کفا ر آخر کار گھٹتے گھٹتے ایسے معدوم ہو گئے کہ ان کا نا م و نشا ن نہ رہا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵۶)