ملفوظات (جلد 5) — Page 156
نہیں رہا۔انسانوں سے گذر کر حیوانوں کو تباہ کیا۔گویا یہ بات کہ انسان کے گناہ سے تمام زمین لعنتی ہو گئی۔اب گویا اہل زمین کیا چر ند، کیا پر ند انسان کی بد کاری کے بد لے پکڑے جا رہے ہیں۔لوگوں میں با وجود اس کے کہ سخت سے سخت عذاب میں مبتلا ہیں۔مگر ویسے ہی رعونت و کبرسے مخمور پھر تے ہیں موت کا خوف دل سے اٹھ گیا اللہ تعالیٰ کی عزّت کا پاس دل میں نہیں رہا عوام تو عوام خواص کا یہ حال ہے کہ دنیا پرستی میں سخت جکڑے ہوئے ہیں خدا کا نام فقط زبان پر ہی ہے۔اندرونہ بالکل اللہ تعالیٰ کی محبت وخشیت سے خالی ہے۔۱ وفات ِمسیحؑ مسیح کی وفات کا کیا معاملہ تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المائدۃ:۱۱۸) بخاری میں مُتَوَفِّيْكَ کے معنے صاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مُـمِیْتُکَ ۱ البدر سے۔’’ ایک طرف نہ ان میں تقویٰ الٰہی نہ طہارت۔ایک طر ف عیسائی غالب آگئے کئی لاکھ ر سا لہ ہر ما ہ عیسائیوں کی طرف سے نکلتے ہیں جن میں افترا، عیب شماری اورہتک ِاسلام کے مضامین ہوتے ہیں جس حالت میں خدا نے اسلام کی نسبت کہا کہ وہ قیامت تک زندہ مذہب ہو گا وہ اسلام کی اس حالت کو کیسے دیکھے۔اگر اب بھی وہ مجدّد نہ بھیجے حا لا نکہ سوسال صدی کے گذرگئے ۲۰ سال اور بھی اوپر ہوئے تو اب اندازہ کر لو کہ اور ایک صد سال تک اسلام کا کیا حا ل ہو گا؟ ۱۰۰ برس بعد مجدّد آنے میں یہ حکمت ہے کہ ایک سو سال کے گذر نے تک پہلے علم والے گذر جاتے ہیں اور اپنی باتیں اپنے سا تھ قبر میں لے جاتے ہیں۔اگر نئے علوم پھر خدا نہ بتلا دے تو حق کیسے قائم رہے؟ چونکہ علم میں فرق آجاتا ہے اس لیے آسمان پر ایک نئی بنیا د ڈا لی جاتی ہے۔تم دیکھتے ہو کہ صدی گذرگئی اور اس پر ۲۰ برس اور بھی گذرگئے اب خدا نے ایک سلسلہ قائم کیا اور مجھے مسیح موعود بنایا۔یہ بات بنا وٹی نہیں ہے اس کے واسطے نشا نیا ں ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵۶) ۲ البدر سے۔’’لکھا ہوا تھا کہ چاند اور سورج کا گرہن ما ہ رمضا ن میں ہو گا ویسے ہی ہوا پھر طاعون لکھی تھی کتابوں سے معلو م ہوتا ہے کہ اس کی عمر ستر ستر بلکہ پچہتر برس کی ہوتی ہے ابھی توکے آمدی اور کے پیر شدی کا معاملہ ہے یہ خدا کی آفت ہے فیصلہ کرکے چھوڑے گی سب انبیاء نے اس کی خبر دی ہے۔قرآن شریف میں اس کا ذکر ہے جیسے کہ لکھا ہے اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا (بنی اسـرآءیل:۵۹)‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵۶)