ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 146

بیّنات ومتشابہات پیشگوئیوں کے ہمیشہ دو حصے ہو اکرتے ہیں اور آدمؑ سے اس وقت تک یہی تقسیم چلی آرہی ہے کہ ایک حصہ متشابہات کا ہوا کرتا ہے اور ایک حصہ بیّنات کا۔اب حدیبیہ کے واقعات کو دیکھا جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو سب سے بڑھ کر ہے مگر علم کے لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ آپ کا سفر کرنا دلالت کرتا تھا کہ آپ کی رائے اسی طرف تھی کہ فتح ہو گی۔نبی کی اجتہادی غلطی جائے عار نہیں ہوا کرتی۔اصل صورت جو معاملہ کی ہوتی ہے وہ پوری ہوکر رہتی ہے انسان اور خدا میں یہی توفرق ہے۔۱ ۲۵؍مئی ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) تزکیہ نفس ایک استفسار کے جواب میں کہ آج کل کے پیراور گدی نشین وظائف وغیرہ مختلف قسم کے اَوراد بتاتے ہیں۔آپ کا کیا ارشاد ہے؟ فرمایا کہ مومن جو بات سچے یقین سے کہے وہ ضرور مؤثر ہوتی ہے۲ کیونکہ مومن کا مطہر قلب اسرار الٰہی کا خزینہ ہے جو کچھ اس پاک لوح انسانی پر منقّش ہوتا ہے وہ آئینہ خدا نما ہے۔مگر انسان جب ضعفِ ۱ البدر سے۔’’جب انسان گناہ کر لیتا ہے اور وہ اس کی کوئی پروا نہیں کرتا تو دل سخت ہوجاتا ہے اور جب دل سخت ہوجاوے تو پاک نہیں ہوا کرتا جب تک کہ پھر نرم نہ ہو اور نرم نہیں ہوتا جب تک کہ نمازوں میں دعائیں نہ کرے۔انسان توبہ پر توبہ کرکے توڑ دیتا ہے اور اس پر کاربند نہیں ہوسکتا جب تک خدا تعالیٰ ساتھ نہ ہو۔اس پر قدرتی طور پر یہ سوال ہوتا ہے کہ پھر گناہ کا علاج کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ سچی خشوع اور خضوع پیدا کرو اور اپنی دعائوں کو انتہا تک پہنچائو۔انبیاء علیہم السلام بھی دُعائیں ہی کیا کرتے تھے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۳) ۲البدر میں ہے۔’’اگر یہ خدا تعالیٰ کے لشکر کی طرف جھک جاوے اور اس سے مدد طلب کرے تو اس گناہ سے بچایا جاتا ہے جو کہ شیطان کے لشکر کی وجہ سے اس سے سر زد ہونا ہوتا ہے اور اگر خدا کے لشکر کی مدد حاصل نہیں کرتا تو شیطان کے لشکر میں پھنس جاتا ہے۔‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۳) ۳البدر میں ہے۔’’اول یہ کہ انسان خود کوشش کرے لیکن یہ کوشش ناکافی ہوا کرتی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۳)