ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 142

فرمایا کہ اس وقت صدہا فرقہ ہیں اگر ایک الٰہی فرقہ بھی ہو گیا تو کیا حرج ہے؟ خدا معلوم کیوں ان لوگوں نے شور مچا رکھا ہے۔۔۔۔ہمارا خدا بائیس برس سے زیادہ سے ہماری امداد کر رہا ہے اور ان لوگوں کی کچھ پیش نہ گئی بد دعا کرتے کرتے ان کے ناک بھی گھس گئے اور ہمیں تجربہ ہے کہ ہمارا وہی خدا ہے جس کی کلام ہم پر نازل ہوتی ہے اب اس کے مقابل پر ان کے ظنّیات کس کام کے ہیں؟ جس حَکم کے وہ منتظر ہیں آخر اس نے بھی آکر ایک ہی فرقہ بنانا ہے ان کی باتوں کا اکثر حصہ آکر وہ ردّ ہی کرے گا تو ہی ایک فرقہ بنا سکے گا پھر کیوں تقویٰ اجازت نہیں دیتا کہ ان کی باتیں ردّ کی جاویں؟ کتاب اللہ ہمارے ساتھ ہے حدیث بھی پکّی سے پکّی ہمارے ساتھ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیحؑ کو مُردوں میں معراج کی رات میں دیکھ کر آئے ادھر خدا کی قولی شہادت ادھر آنحضرت کی فعلی شہادت کہ مسیحؑ فوت ہو گئے۔قاعد ہ کی بات ہے کہ محبت اور ایمان کے لیے اسباب ہوتے ہیں مسیحؑ کی زندگی پر نظر کرو تو معلوم ہوگا کہ ساری عمر دھکے کھاتے رہے صلیب پر چڑھنا بھی مشتبہ رہا ادھر ایک لمبا سلسلہ عمراور سوانح کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھو کہ کیسے نصرت الٰہی شامل رہی ہر ایک میدان میں آپ کو فتح ہوئی کوئی گھڑی یاس کی آپ پر گذری ہی نہیں یہاں تک کہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ (الفتـح:۲) کا وقت آگیا ان تمام نصرتوں میں کوئی حصہ بھی حضرت مسیح کا نظر نہیں آتا اس سے صاف ثابت ہے کہ محبت آنحضرت کی خدا سے زیادہ ہو نہ کہ مسیح کی کیونکہ آنحضرت پر اللہ تعالیٰ کے انعامات بکثرت ہیں اور اس لیے صرف آنحضرت کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہوں جو شخص نظارہ قدرت زیادہ دیکھتا ہے وہی زیادہ فریفتہ ہوا کرتا ہے۔اور اب اگر مسیحؑ آویں بھی تواس میں اسلام کی اور خود مسیحؑ کی بے عزّتی ہے اسلام کی بے عزّتی اس طرح کہ کہنا پڑے گا کہ خاتم النّبیّین کے بعد ایک اور پیغمبر اسرائیلی آیا اور مسیحؑ کی بے عزّتی اس طرح کہ ان کو آکر انجیل چھوڑنی پڑے گی۔۱ ۱البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۹؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۶