ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 141

(اس مقام پر حضرت اقدس نے مسیح کی وفات کے دلائل مختصراً جامع طور پر بیان فرمائے ) اور پھر ان کے بعد ایک تقریر اس مضمون پر فرمائی کہ ہماری جماعت سے کیوں بعض لوگ طاعون سے مَر جاتے ہیں۔اور فرمایا کہ ہمیشہ انجام پر نظر چاہیے آخر کار مومن ہی کامیاب ہوتا ہے اور پھر ایک التباس بھی ہوتا ہے کہ جس پر ہر ایک کو ایمان لا ناچاہیے اگر التباس نہ ہو تو ایمان ایمان نہیں ہوسکتابعض کام تو اس لیے کئے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت پوری ہو جاوے اور بعض اس لیے ظہور میں آتے ہیں کہ انسان تدبر کریں اگر التباس نہ ہوتا تو تدبر کرنے والوں کو ثواب کیسے حاصل ہوتا اور ایمان کے کیامعنے ہوتے۔اگر موت صرف ہمارے دشمنوں کے واسطے ہی ہو تو پھر کون بیوقوف ہے جو کہ ظاہری موت کو دیکھ کر مسلمان نہ ہو جاوے یوں تو لوگ بیشک خدا کے سوا اَوروں کی عبادت کرتے ہیں مثلاً بعض ہندو قبروں کی بھی پوجا کرتے ہیں تو جب ایسے لوگ دیکھ لیویں کہ عافیت تو صرف خدا کے ایک ماننے والوں کے پاس ہے تو ان کو ایمان سے کون سی شَے روک سکتی ہے؟۱ ۱۴؍مئی ۱۹۰۳ء (بوقت ِظہر) نجات کے واسطے اعمال کی ضرورت ہے ایک ذکر پر فرمایا کہ صدق اور عاجزی کام آتی ہے مگر یہ کسی کا اختیار نہیں ہے کہ کسی کو ہاتھ ڈال کر سیدھا کر دیوے ہر ایک انسان کی نجات کے واسطے اس کے اپنے اعمال کا ہونا ضروری ہے بوستان میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک اہل اللہ کو کہا کہ میرے لیے دعا کرو کہ میں اچھا ہو جاؤں اس نے جواب دیا کہ میرے ایک کی دعا کیا کام کرے گی جبکہ ہزاروں بے گناہ قیدی تیرے لیے بددعا کرتے ہیں اس نے یہ سن کر تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا۔(مجلس قبل ازعشاء) ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۹؍مئی ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۴۵