ملفوظات (جلد 5) — Page 4
طاعون۱ کے ذکر پر فرمایا کہ آج کل تو لوگ فر عون کی خصلت رکھتے ہیں کہ چا روں طرف سے خوف آیا تو ایمان لے آئے اور ما ن لیا۔جب خوف جاتا رہا تو پھر مخالفت شروع کردی۔۲ ۳؍اپریل ۱۹۰۳ء اقرار بیعت کے اثرات نما ز جمعہ کے بعد گردونواح کے لوگوں اور چند ایک دیگر احبا ب نے بیعت کی۔بعد بیعت حضرت احمد مرسل مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذیل کی تقریر کھڑے ہو کر فرمائی۔اس وقت تم لوگوں نے ا للہ تعالیٰ کے سامنے بیعت کا اقرارکیا ہے اور تمام گناہوں سے توبہ کی ہے اور خدا سے اقرار کیا ہے کہ کسی قسم کا گناہ نہ کریں گے۔اس اقرار کی دوتاثیر یں ہوتی ہیں۔یا تو اس کے ذریعہ انسان خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کا وارث ہو جاتا ہے کہ اگر اس پر قائم رہے تو اس سے خدا راضی ہو جائے گا اور وعدہ کے موافق رحمت نازل کرے گا اور یا اس کے ذریعے سے خدا کا سخت مجرم بنے گا کیونکہ اگر اقرار کو توڑے گا توگو یا اس نے خدا کی توہین کی اور اہانت کی۔جس طرح سے ایک انسان سے اقرار کیا جاتا ہے اور اسے بجا نہ لا یا جاوے تو توڑنے والا مجرم ہوتا ہے ایسے ہی خدا کے سامنے گناہ نہ کرنے کا اقرار کرکے پھر توڑنا خدا کے روبروسخت مجرم بنا دیتا ہے۔آج کے اقرار اور بیعت سے یا تو رحمت کی ترقی کی بنیا د پڑگئی اور یا عذاب کی ترقی کی۔اگر تم نے تمام باتوں میں خدا کی رضا مندی کو مقدم رکھا اور مدت درازکی تمام عادتوں کو بدل دیا تو یادرکھو کہ بڑے ثواب کے مستحق ہو۔عادت کو چھوڑنا آسا ن بات نہیں۔دیکھتے ہو کہ ایک افیمی یا جھوٹ بولنے والے کو جو عادت پڑگئی ہوئی ہوتی ہے اس کا بدلنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔اسی لیے جو اپنی عادت کو خدا کے واسطے چھوڑتا ہے تو وہ بڑی بات کرتا ہے یہ نہ سمجھو کہ عادت چھوٹی ہویا بڑی ایک عرصہ تک انسان جب گناہ کرتا ہے تو اس کے قویٰ کو ایک عادت اس کے کرنے کی ہو جاتی ہے۔تو کیا تمہارے نزدیک اسے چھوڑدینا کوئی چھوٹی بات ہے؟ جب تک کہ انسان کے اندر ہمت استقلا ل نہ ہو تب تک یہ دور نہیں ہوسکتی۔ما سوااس کے ان عادتوں کے بدلنے میں ایک اور مشکل ہے کہ عادتوں کا پا بند آدمی عیال داری کے حقوق کی بجا آوری میں سست ہوا کرتا ہے مثلاً ایک افیمی ہے تووہ نشہ میں مبتلا ہو کر عیال داری کے لیے کیا کچھ کرے گا؟ اوراسی طرح بعض عادتیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ کنبہ اور اہل وعیال کے آدمی اس کے حامی ہوتے ہیں۔اس کا چھوڑنا اور بھی دشوار تر ہوتا ہے۔مثلاً ایک شخص بذریعہ رشوت کے روپیہ حا صل کرتا ہے عورتوں کو اکثر علم نہیں ہوتا وہ تواس کو اچھا جانے گی کہ میرا خاوند خوب روپیہ کما تا ہے تو وہ کب کوشش کرے گی کہ خاوند سے یہ عادت چھڑاوے تو ان عادتوں کو چھڑانے والا بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کے کوئی نہیں ہوتا۔باقی سب اس کے حا می ہوتے ہیں بلکہ ایک شخص جونما ز روزہ کو وقت پر ادا کرتا ہے اسے یہ لوگ سست کہتے ہیں کہ کام میں حرج کرتا ہے اور جو نما ز روزہ سے غافل رہ کر زمینداری کے کاموں میں مصروف رہے اسے ہشیار کہتے ہیں اس لیے میں کہتا ہوں کہ توبہ کرنی بہت مشکل کام ہے اور ان ایا م میں تو بہت سے مقابلہ آکر پڑے ہیں۔ایک طرف عادتوں کو چھوڑنا دوسری طرف طاعون ایک بَلا کی طرح سرپرہے اس سے بچنا۔اب دیکھو کون سی مشکل کو تم قبول کرسکتے ہو۔رزق سے ڈرکر انسان کو کسی عادت کا پابندنہ ہونا چاہیے۔اگر اس کا خدا پر ایمان ہے تو خدا رزاق ہے۔اس کا وعدہ ہے جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کا ذمہ وار میں ہوں مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۳،۴) یعنی باریک سے باریک گناہ جو ہے اسے خدا سے ڈرکرجوچھوڑے گا خدا ہر ایک مشکل سے اسے نجات دے گا۔یہ اس لیے کہا ہے کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں ہم تو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر ایسی مشکلات آ کر پڑتی ہیں کہ پھر کرنا پڑ جاتا ہے۔خدا وعدہ فرماتا ہے کہ وہ اسے ہرمشکل سے بچالے گا اور پھر آگے ہے يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۴) یعنی ایسی راہ سے اسے روزی دے گا کہ اس کے گما ن میں بھی وہ نہ ہو گی۔ایسے ہی دوسرے مقام پر ہے وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف:۱۹۷) جیسے ماں اپنی اولاد کی والی ہوتی ہے ویسے ہی وہ نیکوں کا والی ہوتا ہے پھرفر ما تا ہے وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ (الذّٰریٰت:۲۳) یعنی جوکچھ تم کو وعدہ دیا گیا ہے اور تمہارا رزق آسمان پرہے۔۱البدر سے۔’’فرمایا کہ دابۃ الارض کے معنے قرآن شریف سے ہی معلوم کرنے چاہئیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصّے میں یہ لفظ آیا ہے وہاں کیڑے ہی کے معنے ہیں۔پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مُراد ہاتھی وغیرہ جانور ہرگز نہیں ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۱ ) ۲الحکم جلد ۷ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۳ءصفحہ ۹