ملفوظات (جلد 5) — Page 107
بتلایا جاتا وہ ہرگز نہ سمجھ سکتا۔بادشاہِ مصر جو کہ کافر تھا اسے سچی خواب آئی مگر آج کل سچی خواب کا انکار دراصل خدا کا انکار ہے اور اصل میں خدا ہے اورضرور ہے۔اسی کی طرف سے بشارتیں ہوتی ہیں اور نیک خوابیں آتی ہیں اور وہ پوری بھی ہوتی ہیں جس قدر انسان صدق اور راستی میں ترقی کرتا ہے ویسے ہی نیک اور مبشر رئویا بھی آتے ہیں۔حُسنِ عقیدت کیسے حاصل ہو سوال۔میں ایک مسلمان ہوں اور مسلمانوں کی اولاد ہوں عام طور پر دنیا کو دیکھ کر حسن عقیدت کسی پر پیدا نہیں ہوتی۔یہاں کے لوگوں کا طرز زندگی دیکھ کر چاہتا ہوں کہ حسن عقیدت ہو مگر پھر نہیں ہوتی اس کی کیا وجہ اور کیا علاج ہے؟ جواب۔فرمایا کہ انسان ہمیشہ تجارب سے نتیجہ نکالتا ہے اور عقل انسانی بھی بذریعہ تجارب کے ترقی کرتی رہتی ہے مثلاً انسان جانتا ہے کہ اَنب کے درخت کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور بعض درخت کے پھل کڑوے ہوتے ہیں تو اس تجربہ کثیر سے اسے ایک فہم حاصل ہو جاوے گا کہ آنب کے پھل ضرور شیریں ہوتے ہیں اسی طرح چونکہ تجربہ آج کل یہی ہوتا ہے کہ دنیا میں فسق وفجور اور مکروفریب کا سلسلہ بڑھا ہوا ہے اسی لیے اس کا خیال بند ھ جاتا ہے کہ ہر ایک فریبی اور مکار ہی ہے سابقہ تجارب اسے تعلیم دیتے ہیں کہ۔۔۔۔ایسا ہی ہونا چاہیے اسی وجہ سے حسن عقیدت کی جگہ بد عقیدگی پیدا ہوتی ہے اور اسی لیے لوگ انبیاء پر بھی سوء ظن رکھتے آئے ہیں۔مو سٰی کی وفات کو ۲ہزار برس گذر چکے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معبوث ہوئے اور اس زما نے میں بہت سے جھوٹے معجزات دکھا نے والے اور دعویٰ کرنے والے پیدا ہوئے تھے لوگوں کو ان کا تجربہ تھا اور اسی حالت میں یک لخت ایک صادق بھی آگیا۔آخر ان کو اس صادق کو بھی وہی کہنا پڑا جو ان جھوٹے مد عیوں کے حق میں کہتے تھے یعنی اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ(صٓ:۷) کہ یہ تو دوکانداری ہے غرضیکہ انسان تجارب کے ذریعے سے بھول رہے ہیں خدا کے بندوں کی معرفت کا ہونا یہ خدا کا خاص فضل ہے وہی معرفت دے تو پتا لگتا