ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 85

جذبات میں ایک برودت آجاتی ہے جس سے گناہوں کا صدور بند ہو کر ان کے بالمقابل نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں۔پس شفاعت کے مسئلہ نے اعمال کو بے کار نہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی ہے۔شفاعت اور کفارہ میں فرق شفاعت کے مسئلہ کے فلسفہ کو نہ سمجھ کر احمقوں نے اعتراض کیا ہے اور شفاعت اور کفارہ کو ایک قرار دیا۔حالانکہ یہ ایک نہیں ہوسکتے ہیں۔کفارہ اعمال حسنہ سے مستغنی کرتا ہے اور شفاعت اعمال حسنہ کی تحریک۔جو چیز اپنے اندر فلسفہ نہیں رکھتی ہے وہ ہیچ ہے۔ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ اسلامی اصول اور عقائد او راس کی ہر تعلیم اپنے اندر ایک فلسفہ رکھتی ہے اور علمی پیرایہ اس کے ساتھ موجود ہے جو دوسرے مذاہب کے عقائد میں نہیں ملتا۔شفاعت اعمال حسنہ کی محرک کس طرح پر ہے؟ اس سوال کا جواب بھی قرآن شریف ہی سے ملتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ کفارہ کا رنگ اپنے اندر نہیں رکھتی جو عیسائی مانتے ہیں۔کیونکہ اس پر حصر نہیں کیا جس سے کاہلی اور سستی پیدا ہوتی بلکہ فرمایا اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ(البقرۃ:۱۸۷) یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں تجھ سے سوال کریں کہ وہ کہاں ہے تو کہہ دے کہ میں قریب ہوں۔قریب والا تو سب کچھ کرسکتا ہے۔دور والا کیا کرے گا؟ اگر آگ لگی ہوئی ہو تو دور والے کو جب تک خبر پہنچے اس وقت تک تو شاید وہ جل کر خاک سیاہ بھی ہو چکے۔اس لئے فرمایا کہ کہہ دو کہ میں قریب ہوں۔پس یہ آیت بھی قبولیت دعا کا ایک راز بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت پر ایمان کامل پیدا ہو اور اسے ہر وقت اپنے قریب یقین کیا جاوے اور ایمان ہو کہ وہ ہر پکار کو سنتا ہے۔بہت سی دعائوں کے رد ہونے کا یہ بھی سر ہے کہ دعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دعا کو مسترد کرالیتا ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ دعا کو قبول ہونے کے لائق بنایا جاوے کیونکہ اگر وہ دعا خدا تعالیٰ کی شرائط کے نیچے نہیں ہے تو پھر اس کو خواہ سارے نبی بھی مل کر کریں تو قبول نہ ہوگی اور کوئی فائدہ اور نتیجہ اس پر مترتب نہیں ہوسکے گا۔اب یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا صَلِّ عَلَيْهِ