ملفوظات (جلد 4) — Page 84
روح یہی اشک باری اور سینہ کوبی ہے۔مگر میں نہیں سمجھتا کہ اس کو نجات سے کیا تعلق؟ اس لئے میں یہ تعلیم کبھی دینا نہیں چاہتا اور نہ اسلام نے دی کہ تم اپنے گناہوں کی گٹھڑی کسی دوسرے کی گردن پر لاد دو اور خود اباحت کی زندگی بسر کرنےلگو۔قرآن شریف نے صاف فیصلہ کر دیا ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى(الانعام: ۱۶۵) ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور نہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر خدا تعالیٰ کے عام قانون قدرت میں ملتی ہے۔کبھی نہیں دیکھا جاتا کہ زید مثلاً سنکھیا کھالیوے اور اس سنکھیا کا اثر بکر پر ہو جاوے اور وہ مَر جاوے۔یا ایک مریض ہو اور وہ دوسرے آدمی کے دوا کھالینے سے اچھا ہو جاوے بلکہ ہر ایک بجائے خود متاثر ہوگا۔پھر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ ایک شخص ساری عمر گناہ کرتا رہے اور دلیری کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا رہے اور لکھ دے کہ میرے گناہوں کا بوجھ ایک دوسرے شخص کی گردن پر ہے جو شخص ایسی امید کرتا ہے وہ ع دماغ بیہدہ پخت و خیال باطل بست کا مصداق۔پس اسلام کسی سہارے پر رکھنا نہیں چاہتا کیونکہ سہارے پر رکھنے سے ابطال اعمال لازم آجاتا ہے۔لیکن جب انسان سہارے کے بغیر زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے آپ کو ذمہ وار ٹھہراتا ہے اس وقت اس کو اعمال کی ضرورت پڑتی ہے اور کچھ کرنا پڑتا ہے اسی لئے قرآن شریف نے فرمایا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (الشّمس: ۱۰) فلاح وہی پاتا ہے جو اپنا تزکیہ کرتا ہے خود اگر انسان ہاتھ پائوں نہ ہلائے تو بات نہیں بنتی۔شفاعت کا فلسفہ مگر اس سے یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہیے کہ شفاعت کوئی چیز نہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ شفاعت حق ہے۔اور اس پر یہ نص صریح ہےوَصَلِّ عَلَيْهِمْ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ(التّوبۃ: ۱۰۳) سَكَنٌ لَّهُمْ یہ شفاعت کا فلسفہ ہے یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جاوے۔شفاعت کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ گناہ کی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور نفسانی جوشوں اور