ملفوظات (جلد 4) — Page 51
آنحضرتؐکے دعاوی پر آپڑتی ہے۔کیونکہ خدا نے توریت میں یہ تو ذکر کیا کہ آخری زمانہ میں ایک نبی ہوگا اور پھر یہ کہ تمہارے بھائیوں میں سے ہوگا۔مگر یہ تصریح نہ کی کہ اسماعیل کی نسل میں ہوگا حالانکہ یہود کا بھی یہی خیال رہا کہ بنی اسرائیل سے ہوگا ورنہ کیا خدا تعالیٰ قادر نہ تھا کہ آپ کا نام آپ کے باپ کا نام، آپ کے شہر کا نام سب کچھ پہلے بتلا دیتا اور کسی کو کوئی وجہ شک کی نہ رہتی۔مگر ایسے الفاظ تھے کہ ان سے اہل یہود نے فائدہ اٹھالیا۔اور ان کا ابھی تک یہی مذہب ہے کہ تمہارے بھائیوں میں سے مراد یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے ہوگا۔دوسری جگہ جہاں اہل یہود نے ٹھوکر کھائی ہے وہ الیاس والا مقدمہ ہے کہ انہوں نے یوحنا کو الیاس نہ مانا۔غرض اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام امور پر یکجائی نظر ڈالے اور مومن اور متقی آدمی ہو تو پھر اسے ثبوت ملتا ہے کہ ایک طرف تو قرآن اور احادیث اور سابقہ کتب ہمارے ساتھ ہیں اور ایک طرف صدہا نشان جو کہ ظاہر ہو چکے ہیں اور ان میں سے ایک سو پچاس کا ذکر نزول المسیح میں ہے۔غرض یہ سنّت اﷲ ہے کہ نشانوں سے صادق شناخت کیا جاتا ہے۔یہود کے لئے ابتلا کا مقام اور سچی بات یہی ہے کہ اگر وہ ہم پر اعتراض کریں تواوّل حضرت عیسٰیؑاور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور صداقت کا ثبوت پیش کریں۔پھر ان سے جو کمی رہ جاوے گی وہ ہم پوری کردیویں گے۔یہودیوں کو دوبار حیرت کا مقام پیش آیا۔ایک تو مسیح علیہ السلام کے وقت کہ جب انہوں نے پوچھا کہ تجھ سے پیشتر آنے والا الیاس کہاں ہے؟ تو جواب دیا کہ وہ یوحنا ہے چاہو قبول کرو چاہو قبول نہ کرو اور دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کہ آپ بنی اسماعیل میں سے ہوئے۔بعل زبول اور مسیح کو بھی دیوانہ کہا گیا تھا چنانچہ ان کا نام منکروں نے بعل زبول رکھا تھا۔بعل کے معنے رئیس اور زبول کے معنے مکھیاں جو کہ گندگی پر بیٹھتی ہیں یعنی کُل گندگیوں کا سردار۔یہ ان کی سخت غلطی تھی اور مخالفت کی وجہ سے اسے کہتے تھے جیسے آنحضرتؐکو ساحر اور مجنون کہتے تھے۔