ملفوظات (جلد 4) — Page 45
رہے ہیں اور توریت پڑھتے ہیں پھر گمراہ کیوں ہیں؟ خلیفہ کے معنے عرب صاحب نے خلیفہ کے معنے دریافت کئے۔فرمایا۔خلیفہ کا معنے جانشین کے ہیں جو تجدید دین کرے۔نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں۔انہیں خلیفہ کہتے ہیں۔بنی اسرائیل کے انبیاء موسوی شریعت کے تابع تھے مثلاً گذشتہ انبیاء میں جو خلیفہ ہوئے وہ وہ تھے جو مقاصد توریت کے کھول کر بیان کیا کرتے تھے ورنہ تعلیم سب کی ایک ہی تھی۔یہود کو جو توریت میں یہ تعلیم دی تھی کہ دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔مگر توریت کا اس عدل سے وہ مطلب نہ تھا جو یہودی لوگ اپنی جھوٹی روایتوں اور حدیثوں کی بنا پر اصل اخلاق کو دور کرکے ظاہری شریعت کے پیچھے لگ گئے کہ اگر ظاہر شریعت پر عمل نہ کریں گے تو گنہگار ٹھہریں گے اور عفو گویا بالکل نہ کرنا چاہیے۔حالانکہ اس سے خدا تعالیٰ پر حرف آتا ہے کہ وہ کیوں عفو کی عادت ترک کر بیٹھا۔ہاں یہ سچ ہے کہ بنی اسرائیل چار سو برس کی غلامی کی وجہ سے فرعونیوں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے جو ظالمانہ طبیعت رکھتے تھے۔اس لئے بہت سے مفاسد ان میں پیدا ہو گئے تھے اور چال چلن خراب ہو گیا تھا۔اس ظالمانہ عادات کی بیخ کنی کے لئے عدل کے رنگ میں یہ تعلیم ان کو دی گئی تھی مگر انہوں نے اس کو الٹا سمجھا ورنہ ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اخلاق کا وہ حصہ جو عفو کہلاتا ہے بالکل زائل کر دیا گیا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ بڑے سخت دل ہو گئے چنانچہ جب حضرت عیسیٰ ؑمبعوث ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ یہودیوں کی سخت دلی بہت بڑھی ہوئی ہے اور وہ کئی قسم کے فسق و فجور میں مبتلا تھے اس لئے انہوں نے آکر عفو کی تعلیم دی اور اخلاق کی تجدید کی۔یہ کہنا کہ انجیل ہی میں اخلاق بھرے ہوئے ہیں سخت غلطی ہے۔کیا پہلے نبیوں کی کتابیں جو ستّر سے زیادہ ہیں وہ سب اخلاقی تعلیم سے خالی ہیں؟ ہرگز نہیں۔مسیح نے کوئی نئی تعلیم نہیں دی اور نہ نئی شریعت پیش کی۔یہودی اب تک کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نے جو کچھ لیا ہمارے ہی صحیفوں سے لیا ہے۔چنانچہ ایک یہودی