ملفوظات (جلد 4) — Page 44
ہے کہ وہ اس امت میں سے ہوگا۔غرض اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان سلسلوں میں بالکل مطابقت ہے۔اور محمدیؐ سلسلہ میں آنے والا خاتم الخلفاء مسیح کے رنگ پر ہوگا۔حدیثوں میں بھی یہی آیا ہے کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ یعنی وہ امام تم ہی میں سے ہوگا۔مسیح موعود کس قوم سے ہوگا؟ سوال ہوا کہ مسیح کس قوم سے ہوگا؟ فرمایا۔مہدی کی بابت تو مختلف روایات ہیں۔مگر مسیح کی بابت نہیں لکھا کہ وہ کس قوم سے ہوگا اور یہ لطف کی بات ہے کہ چونکہ کسی قوم کا ذکر نہیں ہے اور مسلمانوں کا خیال تھا کہ وہ اوپر سے آنے والا ہے۔اس لئے اس دعویٰ میں آج تک کسی کو جرأت نہیں ہوئی کہ افترا سے کام لیتا۔مہدی کاذب ہونے کے دعوے جو بہت لوگوں نے کئے اس کی وجہ یہی تھی کہ اس کی قوم کا ذکرتھا۔جہاں جس کو گنجائش ملی۔اس نے پائوں جما کر دعویٰ کردیا۔مسیح ناصری شارح توریت اور مسیح موعود شارح قرآن ہے پوچھا گیا کہ عیسائی لوگ توریت کو نہیں مانتے۔انجیل کو ہی مانتے ہیں۔فرمایا۔انجیل میں ہرگز کوئی شریعت نہیں ہے بلکہ توریت کی شرح ہے اور عیسائی لوگ توریت کو الگ نہیں کرتے جیسے مسیح توریت کی شرح بیان کرتے تھے۔اسی طرح ہم بھی قرآن شریف کی شرح بیان کرتے ہیں۔جیسا کہ وہ مسیحؑ، موسٰیؑسے چودہ سو برس بعد آئے تھے۔اسی طرح ہم بھی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودھویں صدی میں آئے ہیں۔مغضوب اورضالّ ایک شخص نے سوال کیا۔بعض مخالف کہتے ہیں ہم بھی تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتـحۃ:۶)کہتے ہیں ہم کو یہودی اور مغضوب کیوں کہا جاتا ہے؟ فرمایا کہ یہودی بھی تو ہدایت اب تک طلب کر رہے ہیں اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَمانگ