ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 348

آگے جا پڑا۔۔۔پھر وہ ہندو اٹھانے لگا تو وہ وہاں سے اڑکر اور آگے جاپڑالیکن وہ دو ورقہ اس طرح کچھ ترتیب سے کھل کر اڑتا رہا ہے کہ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ کوئی جاندار چیز ہے جب وہ کچھ فاصلہ تک چلا گیا تووہ ہندو وہاں جاکر پھر اس کو پکڑنے لگا تب وہ دوورقہ اڑکرمیرے پاس آگیا تو اس وقت میری زبان سے یہ کلمہ نکلا جس کا تھا اس کے پاس آگیا۔پھر میں نے اس کو مخاطب ہو کر کہا کہ ہم وہ قوم ہیں جو روح القد س کے بلائے بولتے ہیں ہم وہ قوم ہیں جن کے حق میں خدا نے فرمایا ہے لَنَفَخْنَا فِیْـھِمْ مِّنْ صِدْقِنَا فقط۔اسلا می خدمات کسی دوسرے سے اللہ تعالیٰ لینا ہی نہیں چاہتا۔شاید دوسرا اس میں کچھ غلطی بھی کرے۔واللہ اعلم۔جو شخص اسلام کے عقائد کا منا فی ہے وہ اسلام کی تائید کیا کرے گا۔سناتن دھرم میں اس طرح کے بھی آدمی ہوتے ہیں کہ وہ کسی فرقہ کے مکذب نہیں ہوتے اور معمولی چیزوں کے آگے بھی ہاتھ جوڑتے پھرتے ہیں۔خدا نہیں چاہتا کہ جو سلسلہ اس نے اپنے ہاتھ سے لگا یا ہے اس کا کوئی شریک ہو یہاں سے تویہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کا غذ ہما رے پاس آگیا۔۱ آیا تِ مبین میرے نزدیک ا ٓیا ت مبین وہ ہوتی ہیں مخا لف جس کے مقابلہ سے عاجز ہو جاوے خواہ وہ کچھ ہی ہو جس کا مخالف مقابلہ نہ کرسکے وہ اعجا ز ٹھہر جائے گا جب کہ اس کی تحدی کی گئی ہو۔یا د رکھنا چاہیے کہ اقتراح کے نشانوں کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے نبی کبھی جرأت کرکے یہ نہیں کہے گا کہ تم جو نشان مجھ سے مانگو میں وہی دکھا نے کو طیار ہوں۔اس کے منہ سے جب نکلے گا یہی نکلے گا اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ (الانعام:۱۱۰) اور یہی اس کی صداقت کا نشان ہوتا ہے۔کم نصیب مخالف اس قسم کی آیتوں سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ معجزات سے انکار کیا گیا ہے مگر وہ آنکھوں کے اندھے ہیں ۱ البدر جلد۲نمبر۱۱ مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۵