ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 347

نہیں ہو چکے اور آجکل تو وبا سے گھر کے گھر صاف ہوتے جاتے ہیں اور موت کے لیے طبیعت پر زور دے کر سوچنے کی حاجت ہی نہیں رہی۔یہ حالتیں قبض اور بسط کی اس شخص کو پیدا ہوتی ہیں جس کو موت یاد نہیں ہوتی کیونکہ تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ انسان قبض کی حالت میں ہوتا ہے اور ایک نا گہانی حادثہ پیش آجا نے سے وہ حالتِ قبض معاً دور ہو جاتی ہے جیسے کوئی زلزلہ آجاوے یا موت کا حادثہ ہو جاوے تو ساتھ ہی اس کا انشراح ہو جاتا ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبض اصل میں ایک عارضی شَے ہے جو کہ موت کے بہت یاد کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا پیوست ہو جانے سے دور ہو جاتی ہے اور پھر بسط کی حالت دائمی ہو جاتی ہے عارفوں کو قبض کی حالت بہت کم ہوتی ہے۔نا دان انسان سمجھتا ہے کہ دنیا بہت دیر رہنے کی جگہ ہے میں پھر نیکی کرلوں گا۔اس واسطے غلطی کرتا ہے اور عا رف سمجھتا ہے کہ آج کا دن جو ہے یہ غنیمت ہے خدا معلوم کل زندگی ہے کہ نہیں۔ایک رؤیا میں اس مکان کی طرف سے مسجد کی طرف چلا جا رہا ہوں۔میں نے ایک شخص کو آتے ہوئے دیکھا جو کہ ایک سکھ کی طرح معلوم ہوتا تھا جس طرح سے اکا لئے اور کو کہ سکھ ہوتے ہیں۔اس کے ہاتھ میں ایک بہت تیز خوفناک بڑا اور چوڑا چھراتھا اور اس چھرے کا دستہ چھوٹا سا تھا وہ چھرا بڑاہی تیز معلوم ہوتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا گویا وہ اس سے لوگوں کو قتل کرتا پھرتا تھا۔جہاں اس نے چھرا رکھا اور گردن اڑگئی۔کچھ اس طرح معلوم ہوتا تھاجس طرح میں نے لیکھرام کے وقت میں ایک آدمی خواب میں دیکھا تھا اس کی صورت بڑی ڈراؤنی تھی اور بڑاہی دہشت ناک آدمی معلوم ہوتا تھا۔مجھے بھی اس سے خوف معلوم ہوا اور میں نے اس کی طرف جانا نہ چاہا لیکن میرے پاؤں بہت بوجھل ہو گئے اور میں بڑا ہی زورلگاکر ادھر سے نکلا لیکن اس نے میری مزاحمت نہ کی اور اگرچہ مجھ کواس سے خوف معلوم ہو الیکن اس نے مجھ کو کوئی تکلیف نہ دی اور پھر وہ خبر نہیں کہ کس طرف کو نکل گیا۔ایک اور رؤیا ایک حنا ئی رنگ کا کاغذ لکھا ہوا دوورقہ کا غذ کچھ تھوڑے فا صلہ پر گرپڑاہے میں نے ایک ہند وکو کہا کہ اس کو پکڑو۔جب وہ پکڑنے لگا تو وہ کاغذ کچھ تھوڑی دور