ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 342

وہ زمانہ جس میں نمازیں سنوارکرپڑھی جاتی تھیں غورسے دیکھ لوکہ اسلام کے واسطے کیساتھا۔ایک دفعہ تواسلام نے تمام دنیا کو زیرِپا کردیا تھا جب سے اسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں۔دردِ دل سے پڑھی ہوئی نمازہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس اَمر کو حل اور آسان کردیا ہواہوتا ہے۔نما ز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے۔التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اس کی عرض کو اچھی طرح سنتا ہے پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گذارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے۔نمازی کا یہی حال ہے خدا کے آگے سر بسجودرہتا ہے اور خدا کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے۔پھر آخر سچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دے کر تسلّی دیتا ہے۔بھلا یہ بجز حقیقی نماز کے ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔اور پھر جن کا خدا ہی ایسا نہیں وہ بھی گئے گذرے ہیں ان کا کیا دین اور کیا ایمان ہے۔وہ کس امید پراپنے اوقات ضائع کرتے ہیں۔اسلام کے عروج وزوال کے حقیقی اسباب ہمارے زمانہ میں جو سوال پیش ہوا کہ کیا وجوہا ت ہیں جن سے اسلام کو زوال آیا اور پھر وہ کیا ذریعے ہیں جن سے اس کی ترقی کی راہ نکل سکتی ہے۔اس کے مختلف قسم کے لوگوں نے اپنے اپنے خیال کے مطابق جواب دیئے ہیں مگر سچا جو ا ب یہی ہے کہ قرآن کو ترک کرنے سے تنزل آیا اور اسی کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے سے ہی اس کی حالت سنور جاوے گی۔موجود ہ زمانہ میں جو ان کو اپنے خونی مہدی اور مسیح کی آمد کی امید اور شوق ہے کہ وہ آتے ہی ان کو سلطنت لےدے گا اور کفار تباہ ہوں گے یہ ان کے خا م خیال اور وسوسے ہیں۔ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتدا میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے ذریعہ زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلّط عطا کرے گا نہ تلوار سے۔ہر ایک اَمر کے لیے کچھ آثار ہوتے ہیں اور اس کے پہلے تمہید یں ہوتی ہیں ’’ہو نہاربروا کے چکنے چکنے پا ت‘‘ بھلا اگر ان کے خیال کے موافق یہ زمانہ ان کے دن پلٹنے کا ہی تھا اور مسیح نے آ کر ان کو سلطنت دلا نی تھی تو چاہیے تھا کہ ظاہر ی طاقت ان میں جمع ہونے لگتی۔