ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 341

رضا کی راہیں مانگتا رہے اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگارہو کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے۔اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری ر ضاپر کار بند ہو کر تجھے راضی کرلیں۔خدا کی محبت، اسی کا خوف، اسی کی یاد میں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حا صل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا؟ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سورہنا۔یہ تو دین ہرگز نہیں یہ سیرت کفار ہے۔بلکہ جو دم غافل وہ دم کافر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے۔چنا نچہ قرآن شریف میں ہے کہ اُذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ ( البقرۃ:۱۵۳) یعنی اے میرے بندوتم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا اور میرا شکر کیا کرو، میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الٰہی کے ترک اور اس سے غفلت کا نام کفر ہے پس جو دم غافل وہ دم کافر والی بات صاف ہے یہ پا نچو وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقرر فرمائے ہیں۔ورنہ خدا کی یاد میں تو ہروقت دل کو لگا رہنا چاہیے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہیے۔اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہروقت اسی کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلا نے کا مستحق ہوسکتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کسی طرح کی امید اور بھروسا کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔نماز خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پرپہنچنا ہے۔اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنی لمبی وہ منزل ہو گی اتنا ہی زیادہ تیزی، کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہوگا۔سو خدا تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بُعد اور دوری بھی لمبی۔پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربا ر میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گا ڑی ہے جس پر سوار ہوکر وہ جلدتر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کردی وہ کیا پہنچے گا۔اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اسے دل کی تسکین، آرام اورمحبت سے اس کی حقیقت سے غا فل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرضِ زوال میں آئی ہے۔