ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 333

ہاتھ پسا رنے سے محفوظ رکھتا ہے بھلا اتنے جو انبیاء ہوئے ہیں اولیاء گذرے ہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ بھیکھ مانگا کرتے تھے؟ یا ان کی اولاد پر یہ مصیبت پڑی ہو کہ وہ دربدرخاک بسر ٹکڑے کے واسطے پھرتے ہوں؟ ہرگزنہیں۔میرا تو اعتقاد ہے کہ اگر ایک آدمی با خدا اور سچا متقی ہو تو اس کی سات پشت تک بھی خدا رحمت اور برکت کا ہاتھ رکھتا اور ان کی خود حفاظت فرماتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک ذکر کیا ہے کہ ایک دیوار دو یتیم لڑکوں کی تھی۔وہ گرنے والی تھی اس کے نیچے خزانہ تھا۔لڑکے ابھی نا با لغ تھے۔اس دیوار کے گر نے سے اندیشہ تھا کہ خزانہ ننگا ہوکر لوگوں کے ہاتھ آجائے گا۔وہ لڑکے بیچارے خالی ہاتھ رہ جاویں گے تواللہ تعالیٰ نے دونبیوں۱ کواس خدمت کے واسطے مقرر فرمایا۔وہ گئے اور اس دیوار کو درست کر دیا کہ جب و ہ بڑے ہوں تو پھر کسی طرح ان کے ہاتھ وہ خزانہ آجاوے۔پس اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا(الکھف:۸۳) یعنی ان لڑکوں کا با پ نیک مَرد تھا۔جس کے واسطہ ہم نے ان کے خزانہ کی حفاظت کی۔اللہ تعالیٰ کے ایسا فرما نے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے کچھ اچھے نہ تھے اور نہ اچھے ہونے والے تھے۔ورنہ یہ فرما تاکہ یہ اچھے لڑکے ہیں صالح ہیں اور صالح ہونے والے ہیں۔نہیں بلکہ ان کے با پ کا ہی حوالہ دیا کہ ان کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ایساکیا گیا ہے۔دیکھو! یہی تو شفاعت ہے۔حقیقی متقی بنو وہ لوگ جو بڑے بڑے ادعا کرتے ہیں کہ ہم یوں نیکی کرتے ہیں اور متقی ہیں مگر ان کے یہ دعوے قرآن شریف کے مطابق نہیں ہوتے اور نہ اس کسوٹی پر صادق ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہ فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف:۱۹۷) اِنْ اَوْلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (الانفال:۳۵) تو اس وقت افسوس سے ہمیں ان لوگوں کی ہی حالت پر رحم آتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں اصل سبب اس کا یہ ہے کہ ان کا صدق و وفااور اخلاص البدر میں ہے۔’’خدا نے اپنے ان دو بندوں کو وہاں بھیجا کہ اس دیوار کی مرمّت کریں تاکہ جب وہ جوان ہوں تو اس خزانہ کو نکال کر استعمال کریں۔کیا وجہ تھی کہ خدا نے ایسے دو عظیم الشان آدمیوں کو وہاں بھیجا اس کی وجہ یہی تھی وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا یعنی ان کا باپ نیکو کار تھا۔‘‘ (البدرجلد۲نمبر۱۱مورخہ ۳؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۳)