ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 332

یعنی جو خدا کا متقی اور اس کی نظر میں متقی بنتا ہے اس کوخدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی تنگی سے نکالتا اور ایسی طرز سے رزق دیتا ہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہوتاکہ کہاں سے اور کیوں کر آتا ہے۔خدا کا یہ وعدہ برحق ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ خدا اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا اور بڑا رحیم کریم ہے۔جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے و ہ اسے ہر ذلّت سے نجات دیتا ہے اور خود اس کا حافظ ونا صر بن جاتا ہے۔مگر وہ جو ایک طرف دعویٰ اتقاکرتے ہیں اور دوسری طرف شاکی ہوتے ہیں کہ ہمیں وہ برکات نہیں ملے ان دونوں میں سے ہم کس کو سچا کہیں اور کس کو جھوٹھا؟ خدا تعالیٰ پر ہم کبھی الزام نہیں لگا سکتے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ(اٰلِ عـمران:۱۰) خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا خلاف نہیں کرتا۔ہم اس مد عی کو جھوٹا کہیں گے۔اصل یہ ہے کہ ان کا تقویٰ یا ان کی اصلاح اس حدتک نہیں ہوتی کہ خدا کی نظر میں قابلِ وقعت ہو۔یا وہ خدا کے متقی نہیں ہوتے لوگوں کے متقی اور ریا کار انسان ہوتے ہیں سوان پر بجائے رحمت اور برکت کے لعنت کی ما ر ہوتی ہے جس سے سرگرداں اور مشکلات دنیا میں مبتلا رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ متقی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔وہ اپنے وعدوں کا پکا اور سچا اور پورا ہے۔متّقین کے لئے رزق رزق بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں یہ بھی تو ایک رزق ہے کہ بعض لوگ صبح سے شا م تک ٹوکری ڈھوتے ہیں اور برے حال سے شام کو دوتین آنے ان کے ہاتھ میں آتے ہیں یہ بھی تو رزق ہے مگر لعنتی رزق ہے نہ رزق مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔۱ حضر ت داؤد زبور میں فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا جوان ہوا۔جوانی سے اب بڑھا پا آیا مگر میں نے کبھی کسی متقی اور خدا ترس کو بھیکھ مانگتے نہ دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو دربدر دھکے کھاتے اور ٹکڑے مانگتے دیکھا یہ بالکل سچ اور راست ہے کہ خدا اپنے بندوں کوضائع نہیں کرتا اور ان کو دوسروں کے آگے ۱ البدرسے۔’’کیا یہ بھی رزق ہے جو کہ کس قدر ذلّت سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘ (البدرجلد۲نمبر۱۱مورخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۳)