ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 326

ہے وہ کہتا ہے کہ بس اب گئی اب نہیں آئے گی۔اومیاں !ایسا ہمیشہ ہی ہوا کرتا ہے کہ بیما ریاں آتی ہیں چا ردن رہ کر چلی جاتی ہیں مگر خدا کی باریک تد ابیر سے وہ نا واقف ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ وہ مہلت دیتا ہے کہ بھلا ابھی ان میں کچھ صلا حیت اور تقویٰ اور خوف بھی پیدا ہواہے یانہیں۔اس طاعون کا پچھلاتجربہ بتا تا ہے کہ ایک ایک دورہ سترسترسال کا ہواکرتا ہے اس سے تو جنگل کے جانوروں نے بھی پناہ مانگی ہے۔جب انسانوں کو ختم کر چکتی ہے تو اس جنگل کے حیوانوں اور درندوں کو بھی ختم کردیتی ہے۔ایسے وقتوں میں خدا تعالیٰ بچا لیتا ہے ان لوگوں کو جو اِن مصائب اور عذابوں کے نازل ہونے سے پہلے اپنے آپ کی اصلاح کرتے اور دوسروں سے عبر ت پکڑتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی حفاظت خود کرتا ہے عذابوں اور شدائدکے وقتوں میں جو آرام اور عیش کے وقت میں اس سے ڈرتے اور پناہ مانگتے ہیں مگر جب عذاب کسی پر نازل ہو جاوے تب توبہ بھی قبول نہیں ہوتی۔اپنے آپ کو درست کر لو پس اب موقع ہے کہ تم خدا کے سامنے اپنے آپ کودرست کر لو اور اس کے فرائض کی بجاآوری میں کمی نہ کرو۔خلق اللہ سے کبھی بھی خیانت، ظلم، بدخلقی، تر شروئی، ایذا دہی سے پیش نہ آؤ۔کسی کی حق تلفی نہ کرو کیونکہ ان چیزوں کے بدلے میں بھی خدا مؤاخذہ کرے گا۔جس طرح خدا کے احکام کی نافرمانی، اس کی عظمت، توحید اور جلال کے خلاف کرنے اور اس سے شرک کرنا گناہ ہیں اسی طرح اس کی خلق سے ظلم کرنا۔اور ان کی حق تلفیاں نہ کرو۔زبان یا ہاتھ سے دکھ یا کسی قسم کی گالی گلوچ دینا بھی گناہ ہیں پس تم دونوں طرح کے گناہوں سے پاک بنو اور نیکی کو بدی سے خلط ملط نہ کرو۔تمہارا دین اسلام ہے تمہارا دین اسلام ہے اسلام کے معنے ہیں خدا کے آگے گردن رکھ دینا۔جس طرح ایک بکراذبح کرنے کی خاطر منہ کے بل لٹا یا جاتا ہے۔اسی طرح تم بھی خدا کے احکام کی بجا آوری میں بے چون وچراگردن رکھ دو۔جب تک کامل طور سے تم اپنے ارادوں سے خا لی اور نفسانی ہوا و ہوس سے پاک نہ ہو جاؤ گے تب تک تمہارا اسلام اسلام نہیں ہے۔بہت ہیں کہ ہماری ان باتوں کو قصہ کہا نی جانتے ہوں گے اور ٹھٹھے