ملفوظات (جلد 4) — Page 325
کسی نہ کسی طرح گذر ہی جاتے ہیں۔ع شب تنور گذشت و شب سمور گذشت غرباء اور مسا کین بھی جن کو کھانے کو ایک وقت ملتا ہے اور دوسرے وقت نہیں ملتا اور آرام کے مکان بھی نہیں ہوتے ان کی بھی گذرہی جاتی ہے اور امر اء اور پلاؤ زردے کھانے والوں اور عمدہ مکانوں اور بالاخانوں میں رہنے والے بھی اپنے دن پورے کرہی رہے ہیں۔کسی کا دکھ دردسے اور کسی کا عیش میں گذارہ ہوتا ہے مگر عاقبت کا دکھ جھیلنا بہت مشکل ہے اور وہ عذاب اور اس کے دکھ درد ناقابل برداشت ہوں گے لہٰذا دانا وہی ہے کہ جو اس ہمیشہ رہنے والے جہان کی فکر میں لگ جاوے۔حقیقتِ نماز سوتم نمازوں کو سنوارواور خدا تعالیٰ کے احکام کو اس کے فرمودہ کے بموجب کرو۔اس کی نواہی سے بچے رہو۔اس کے ذکر اور یاد میں لگے رہو۔دعا کا سلسلہ ہروقت جاری رکھواپنی نماز میں جہاں جہاں رکوع وسجود میں دعا کا موقع ہے دعا کرو اور غفلت کی نماز کو ترک کر دو۔رسمی نماز کچھ ثمرات مترتّب نہیں لاتی اور نہ وہ قبولیت کے لائق ہے۔نماز وہی ہے کہ کھڑے ہونے سے سلام پھیرنے کے وقت تک پورے خشوع خضوع اور حضورقلب سے ادا کی جاوے اور عاجزی اور فروتنی اور انکساری اور گریہ زاری سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس طرح سے ادا کی جاوے کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہو۔اگر ایسا نہ ہوسکے تو کم ازکم یہ تو ہو کہ وہی تم کو دیکھ رہا ہے۔اس طرح کما ل ادب اور محبت اور خوف سے بھری ہوئی نماز ادا کرو۔بے وقت موتوں کا زمانہ دیکھو! یہ زمانہ بے وقت موتوں کا زمانہ آگیا ہے۔بھلا پہلے کبھی تم نے اپنے با پ و دادا سے بھی سنا ہے کہ اس طرح اچانک موت کا سلسلہ کبھی جا ری ہوا ہو۔رات کو اچھا بھلا کام کا ج کرتا اور چلتا پھر تا آدمی سوتا ہے اور صبح کو ایسی نیندمیں سویا ہواہوتا ہے کہ جس سے جا گناہی نہیں۔اب جس گھر میں یہ موت آئی، گھر کا گھر اور گاؤں کے گاؤں اس نے خالی کر دئیے ابھی انجام کی خبر نہیں۔کیا کیا دن آنے ہیں۔ایک نا دان اپنی نا دانی کی وجہ سے جب طاعون چنددن کے لیے رک جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کسی مصلحت سے اسے بند کرتا