ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 311

ایک رؤیا اور ایک الہام رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اپنی جماعت میں سے گھوڑے پر سے گر پڑا پھر آنکھ کھل گئی سوچتا رہا کہ کیا تعبیر کریں۔قیاسی طور پر جو بات اقرب ہو وے لگا ئی جاسکتی ہے کہ اس اثناء میں غنود گی غالب ہوئی اور الہام ہوا۔’’استقامت میں فرق آگیا۔‘‘ ایک صاحب نے کہا کہ وہ کون شخص ہے حضرت نے فرمایا کہ معلوم تو ہے مگر جب تک خدا کا اذن نہ ہو میں بتلا یا نہیں کرتا میرا کام دعا کرنا ہے۔سُود کی حرمت ایک نے سوال کیا کہ ضرورت پر سودی روپیہ لے کر تجا رت وغیرہ کرنے کا کیا حکم ہے۔فرمایا۔حرام ہے۔ہاں اگر کسی دوست اور تعا رف کی جگہ سے روپیہ لیا جاوے اور کوئی وعدہ اس کو زیادہ دینے کا نہ ہو، نہ اس کے دل میں زیادہ لینے کا خیال ہو۔پھر اگر مقروض اصل سے کچھ زیادہ دیدے تو وہ سود نہیں ہوتا بلکہ یہ تو هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ (الرحـمٰن:۶۱) ہے۔اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہو اور سوائے سود کے کام نہ چل سکے تو پھر؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی حرمت مو منوں کے واسطے مقررکی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایمان پر قائم ہو۔اللہ تعالیٰ اس کا متو لی اور متکفل ہوتا ہے۔اسلام میں کروڑہا ایسے آدمی گذرے ہیں جنہوں نے نہ سود لیا نہ دیا آخر ان کے حوائج بھی پورے ہوتے رہے کہ نہ؟۱ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ لو نہ دوجو ایسا کرتا ہے وہ گویا خدا کے ساتھ لڑائی کی طیاری کرتا ہے۔ایمان ہو تو اس کا صلہ خدا بخشتا ہے ایمان بڑی بابرکت شَے ہے اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (البقرۃ: ۱۰۷) اگر اسے خیال ہو کہ پھر کیا کرے؟ تو کیا خدا کا حکم بھی بے کار ہے؟ اس کی قدرت بہت بڑی ہے سود تو کوئی شَے ہی نہیں ہے۔اگر ۱ الحکم سے۔’’وہ کبھی ایسی مشکلات میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ(الطلاق:۴) اللہ تعالیٰ ہر ضیق سے اُن کو نجات دیتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱مورخہ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵)