ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 310

اپنی پرہیز گاری کے لئے عورتوں کو پرہیز گاری سکھا ویں ورنہ وہ گنہ گار ہوں گے اور جب کہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ تجھ میں فلاں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی۔جب تقویٰ نہ ہو تو ایسی حالت میں اولاد بھی پلیدپیدا ہوتی ہے۔اولاد کا طیّب ہونا تو طیّبات کا سلسلہ چاہتا ہے۔اگر یہ نہ ہو تو پھر اولاد خراب ہوتی۔اس لیے چاہیے کہ سب توبہ کریں اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلاویں۔عورت خاوند کی جا سوس ہوتی ہے۔وہ اپنی بدیاں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔نیز عورتیں چھپی ہوئی دا نا ہوتی ہیں۔یہ نہ خیال کرنا چاہیے کہ وہ احمق ہیں۔وہ اندر ہی اندر تمہارے سب اثر وں کو حا صل کرتی ہیں۔جب خاوند سیدھے رستہ پر ہوگا تو وہ اس سے بھی ڈرے گی اور خدا سے بھی۔ایسا نمونہ دکھانا چاہیے کہ عورت کا یہ مذہب ہو جاوے کہ میرے خاوند جیسا اور کوئی نیک بھی دنیا میں نہیں ہے۔اور وہ یہ اعتقادکرے کہ یہ باریک سے باریک نیکی کی رعایت کرنے والا ہے۔جب عورت کا یہ اعتقاد ہو جاوے گا تو ممکن نہیں کہ وہ خود نیکی سے باہر رہے۔سب انبیاؤوں اولیاؤوں کی عورتیں نیک تھیں اس لیے کہ ان پر نیک اثر پڑتے تھے۔جب مَرد بدکار اور فاسق ہوتے ہیں تو ان کی عورتیں بھی ویسی ہی ہوتی ہیں۔ایک چورکی بیوی کو یہ خیال کب ہوسکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں۔خاوند تو چوری کرنے جاتا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے؟ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (النساء:۳۶) اسی لیے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متا ثر ہوتی ہیں جس حد تک خاوند صلا حیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی۔ویسے ہی اگر وہ بد معاش ہوگا تو بد معاشی سے وہ حصہ لیں گی۔۱ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۳ء بروز دو شنبہ (بوقتِ سیر) خواب اور اس کی تعبیر بعض احبا ب نے اپنے اپنے رؤیا سنائے۔آپ نے فرمایا کہ خواب بھی ایک اجمال ہوتا ہے اور اس کی تعبیر صرف قیاسی ہوتی ہے۔۱ البد رجلد ۲ نمبر ۱۰ مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۳ تا ۷۵