ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 307

پھر دیکھو کہ کوڑی اور موتی دونوں دریا ہی سے نکلتے ہیں پتھر اور ہیرہ بھی ایک ہی پہاڑ سے نکلتا ہے۔مگر سب کی قیمت الگ الگ ہوتی ہے اسی طرح خدا نے مختلف وجود بنائے ہیں۔انبیاء کا وجود اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے اور خدا کی محبت سے بھرا ہوا۔اس کو اپنے جیسا سمجھ لینا اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہوگا۔بلکہ خدا نے تو وعدہ کیا ہے کہ جو اس سے محبت کرتا ہے وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔آنحضرتؐنے ایک دفعہ فرمایا کہ بہشت میں ایک ایسا مقام عطا ہوگا جس میں صرف میں ہی ہوں گا۔ایک صحابی روپڑا کہ حضور مجھے جو آپ سے محبت ہے میں کہاں ہوں گا آپ نے فرمایا کہ تو بھی میرے ساتھ ہوگا۔پس سچی محبت سے کام نکلتا ہے ایک مشرک ہرگز سچی محبت نہیںرکھتا۔۱ میں نے جہاں تک دیکھا ہے وہابیوں میں تیزی اور چالاکی ہوتی ہے۔خاکساری اور انکساری تو ان کے نصیب نہیں ہوتی یہ ایک طرح سے مسلمانوں کے آریہ ہیں۔وہ بھی الہام کے منکر، یہ بھی منکر۔جب تک انسان براہ راست یقین حاصل نہ کرے قصص کے رنگ میں ہرگز خدا تک پہنچ نہیں سکتا۔جو شخص خدا پر پورا ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ اس پر کچھ تو خدا کا رنگ آجاوے۔دوسرے گروہ میں سوائے قبرپرستی اور پیرپرستی کے کچھ روح باقی نہیں ہے۔قرآن کو چھوڑدیا ہے۔خدا نے اُمّت وسط کہا تھا۔وسط سے مراد میانہ رو اور وہ دونوں گروہ نے چھوڑدیا ہے۔پھر خدا فرماتا ہے اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ (اٰل عـمران: ۳۲) کیا۲ آنحضرتؐنے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا تھا؟ اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ہم ہزار پر پڑھتے۔ہاں آنحضرت نے ایک دفعہ خوش الحانی۳سے ۱ الحکم میں ہے۔’’مشرک بھی سچی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں رکھ سکتا اور ایسا ہی وہابی بھی نہیں کرسکتا۔یہ مسلمانوں کے آریہ ہیں اُن میں روحانیت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ اور اس کے سچے رسول سے سچی محبت نہیں ہے۔دوسرا گروہ جنہوں نے مشرکانہ طریق اختیار کئے ہیں۔رُوحانیت ان میں بھی نہیں۔قبر پرستی کے سوا اور کچھ نہیں۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵) ۲ الحکم جلد۷نمبر۱۱صفحہ۵سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص نے سوال کیا تھا کہ روٹیوں پر فاتحہ پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟اس کے جواب میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃنے یہ جواب دیا تھا۔(مرتّب) ۳ الحکم میں ہے۔’’سوال۔خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھناکیسا ہے؟ حضرت اقدس۔خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا بھی عبادت ہے اور بدعات جو ساتھ ملالیتے ہیں وہ اس عبادت کو ضائع کردیتے ہیں۔بدعات نکال نکال کر ان لوگوں نے کام خراب کیا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵)