ملفوظات (جلد 4) — Page 306
بعض ملّا اس میں غلو کرکے کہتے ہیں کہ مولودخوانی حرام ہے۱ اگر حرام ہے تو پھر کس کی پیروی کرو گے؟ کیونکہ جس کا ذکر زیادہ ہو اس سے محبت بڑھتی ہے اور پیدا ہوتی ہے۔مولود کے وقت کھڑا ہونا جائز نہیں ان اندھوں کو اس بات کا علم ہی کب ہوتاہے کہ آنحضرتؐکی روح آگئی۲ ہے بلکہ ان مجلسوں میں تو طرح طرح کے بدطینت اور بد معاش لوگ ہوتے ہیں وہاں آپؐکی روح کیسے آسکتی ہے اور یہ کہاں لکھا ہے کہ روح آتی ہے؟ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ (بنیٓ اسـرآءیل:۳۷)۔دونوں طرف کی رعایت رکھنی چاہیے۔جب تک وہابی جو کہ آنحضرتؐکی عظمت نہیں سمجھتا وہ بھی خدا سے دور ہے۔انہوں نے بھی دین کو خراب کر دیا ہے۔جب کسی نبی، ولی کا ذکر آجاوے تو چلّا اٹھتے ہیں کہ ان کو ہم پر کیا فضیلت ہے۔انہوں نے انبیاء کے خوارق سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہا۔دوسرے فرقے نے شرک اختیار کیا حتی کہ قبروں کو سجدہ کیا اور اس طرح اپنا ایمان ضائع کیا۔ہم نہیں کہتے کہ انبیاء کی پرستش کرو بلکہ سوچو اور سمجھو۔۔۔۔خدا بارش بھیجتا ہے ہم تواس پر قادر نہیں ہوتے مگر بارش کے بعد کیسی سرسبزی اور شادابی نظر آتی ہے۔اسی طرح انبیاء کا وجود بھی بارش ہے۔۳ الحکم سے۔’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ کو حرام کہنا بڑی بے باکی ہے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے کا ذریعہ اور اصل باعث ہے اور اتباع کا جوش تذکرہ سے پیدا ہوتا اور اس کی تحریک ہوتی ہے۔جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے اس کا تذکرہ کرتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵) ۲ الحکم سے۔’’ہاں جو لوگ مولود کرتے وقت کھڑے ہوتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی تشریف لے آئے ہیں یہ اُن کی جرأت ہے ایسی مجلسیں جو کی جاتی ہیں اُن میں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ کثرت سے ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جو تارک الصلوٰۃ، سُود خور اور شرابی ہوتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی مجلسوں سے کیا تعلق؟اور یہ لوگ محض ایک تماشہ کے طور پر جمع ہو جاتے ہیں۔پس اس قسم کے خیا ل بے ہودہ ہیں۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵) ۳ الحکم میں ہے۔’’انبیاء علیہم السلام کا وجود بھی ایک بارش ہوتی ہے وہ اعلیٰ درجہ کا روشن وجود ہوتا ہے۔خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔دنیا کے لیے اس میں برکات ہوتے ہیں۔اپنے جیسا سمجھ لینا ظلم ہے۔اولیاء و انبیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵)