ملفوظات (جلد 4) — Page 303
اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔بلکہ اگر کوئی مخا لف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگونہ کرے۔مَرد کی ان تمام باتوں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے۔اسی طرح وہ دیکھتی ہے کہ میرے خاو ند میں فلاں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت، حلم، صبر اور جیسے اسے پر کھنے کا موقع ملتا ہے وہ دوسرے کو مل نہیں سکتا۔اسی لیے عورت کو سارق بھی کہا ہے کیونکہ یہ اندر ہی اندر اخلاق کی چوری کرتی رہتی ہے حتی کہ آخر کار ایک وقت پورا اخلاق حاصل کر لیتی ہے۔ایک شخص کا ذکر ہے وہ ایک دفعہ عیسائی ہوا تو عورت بھی اس کے ساتھ عیسائی ہو گئی۔شراب وغیرہ اول شروع کی پھر پر دہ بھی چھوڑ دیا۔غیر لوگوں سے بھی ملنے لگی۔خاوند نے پھراسلام کی طرف رجوع کیا تو اس نے بیوی کو کہا کہ تو بھی میرے ساتھ مسلمان ہو اس نے کہا کہ اب میرا مسلمان ہونا مشکل ہے۔یہ عادتیں جو شراب وغیرہ اور آزادی کی پڑگئی ہیں یہ نہیں چھوٹ سکتیں۔۱ ۱۵؍مارچ ۱۹۰۳ء (دورانِ سیر) آریوں کے متعلق لٹریچر کی اشاعت کتابوں کی اشاعت کے متعلق خلیفہ صاحب سے فرمایا کہ ان کی اشاعت کرو ایسا نہ ہو کہ صندوقوں میں بند پڑی رہیں۔ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ ان کتابوں کے جواب میں ایک گالیوں کا طومار لکھیں گے کیونکہ جواب دینے کی تو ان میں طاقت نہیں ہوتی۔صرف گند ہی گند بولیں گے۔ہم نے تو نہایت نرم الفاظ میں لکھی ہیں مگر یہ بہتان لگائے بغیرنہ رہیں گے شاید ایک اَور کتاب پھر اس کے جواب میں لکھنی پڑے۔دیانندکو اسلام کی خبر نہیں تھی مگر چونکہ اس نے کتابیں ناگری زبان میں لکھیں اس لیے لوگوں کو اس کی گندہ زبانی کی خبر نہیں ہے لیکھرام ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۳