ملفوظات (جلد 4) — Page 302
سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہیے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اس کا اثر ہوتا ہے۔عورت تو درکناراور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی مانتا ہے۔۔۔۔اگر مَرد کوئی کجی یا خا می اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اس پر گواہ ہے اگر وہ رشوت لے کر گھر آیا ہے تو اس کی عورت کہے گی کہ جب خاوند لایا ہے تو میں کیوں حرام کہوں۔غرضیکہ مَرد کااثر عورت پر ضرور پڑتا ہے اور وہ خود ہی اسے خبیث اور طیّب بناتا ہے اس لیے لکھا ہے اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ۠۔وَ الطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ(النّور:۲۷) اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم طیّب بنوورنہ ہزاروں ٹکریں مارو کچھ نہ بنے گا۔جو شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے؟ نہ ایسے مو لویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا۔ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے بھلا جب خاوند رات کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے، روتا ہے تو عورت ایک دن، دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیال آوے گا اور ضرور مؤثر ہو گی۔عورت میں مؤثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب خاوند عیسائی وغیرہ ہوتے ہیں تو عورتیں ان کے ساتھ عیسائی وغیرہ ہو جاتی ہیں ان کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفا یت نہیں کرسکتا جتنا خاوند کا عملی نمونہ کفا یت کرتا ہے۔خاوند کے مقابلہ میں عورت کے بھائی بہن وغیرہ کا بھی اثر کچھ اس پر نہیں ہوتا۔خدا نے مَرد عورت دونوں کا ایک ہی وجود فرمایا ہے۔یہ مَردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں کہ وہ ان میں نقص پکڑیں۔ورنہ ان کو چاہیے کہ عورتوں کو ہرگز ایسا موقع نہ دیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تو فلاں بدی کرتا ہے بلکہ عورت ٹکر مار مار کر تھک جاوے اور کسی بدی کا پتا اسے مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہوتا ہے اور وہ دین کو سمجھتی ہے۔۱ مَرد۲ اپنے گھر کا امام ہوتا ہے پس اگر وہی بداثر قائم کرتا ہے تو پھر کس قدر بد اثر پڑنے کی امید ہے۔مَرد کو چاہیے کہ اپنے قویٰ کو بر محل اورحلال موقع پر استعمال کرے مثلاً ایک قوت غضبی ہے جب وہ ۱ البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۸ ۲ یہا ں سے جو مضمون شروع ہوتا ہے یہ البدر کے اگلے نمبریعنی نمبر۱۰میں درج ہے۔لیکن وہاں سہو کتابت سے اُسے ۲۰؍مارچ کی ڈائری کا بقیہ لکھا ہے جو درست نہیں۔دراصل یہ ۱۴؍مارچ کی بقیہ ڈائری ہے۔جیسا کہ مضمون کی ترتیب سے واضح ہے۔۲۰؍مارچ کی مکمل ڈائری تو البدر جلد ۲کے نمبر۱۱صفحہ۸۱، ۸۲پر درج ہے۔(مرتّب)