ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 285

آپ لوگوں کی یہ بیعت۔بیعت توبہ ہے۱ توبہ دو طرح سے ہوتی ہے ایک تو گذشتہ گناہوں سے یعنی ان کی اصلا ح کرنے کے واسطے جو کچھ پہلے غلطیاں کر چکا ہے ان کی تلافی کرے اور حتی الوسع ان بگاڑوں کی اصلاح کی کو کشش کرنا اور آیند ہ کے گناہوں سے باز رہنا اور اپنے آپ کو اس آگ سے بچائے رکھنا۔توبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ توبہ سے تمام گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ وہ توبہ صدقِ دل اور خلوصِ نیت سے ہو اور کوئی پوشیدہ دغا بازی دل کے کسی کونہ میں پوشیدہ نہ ہو۔وہ دلوں کے پوشیدہ اور مخفی رازوں کو جانتا ہے وہ کسی کے دھوکا میں نہیں آتا پس چاہیے کہ اس کو دھوکا دینے کی کو کشش نہ کی جاوے اور صدق سے نہ نفا ق سے اس کے حضور توبہ کی جاوے۔توبہ انسان کے واسطے کوئی زائدیا بے فائدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صرف قیامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسان کی دنیا و دین دونوں سنورجاتے ہیں۔اوراسے اس جہان میں اور آنے والے جہان میں دونوں میں آرام اور سچی خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔۲ دیکھو! قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ:۲۰۲) اے ہمارے رب ہمیں اس دنیا میں بھی آرام و آسائش کے سامان عطا فرما اور آنے والے جہان میں بھی آرام اور راحت عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔دیکھو! درحقیقت رَبَّنَا کے لفظ میں توبہ ہی کی طرف ایک باریک اشارہ ہے کیونکہ رَبَّنَا کا لفظ چاہتا ہے۳ کہ وہ بعض اور ربوں کو جو اس نے پہلے بنائے ہوئے تھے ان سے بے زارہو کر اس ربّ ۱ البدر میں یوں لکھا ہے۔’’بیعت دراصل توبہ ہوتی ہے اور بیعت کے دو جز ہیں۔اوّل۔پچھلے گناہوں سے معافی مانگتے ہیں۔دوم۔بیعت میں آئندہ گناہوں سے بچنے کے لیے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۶۶ ) ۲ البدر میں ہے۔’’توبہ ایک ایسی چیز ہے جو اس جہان میں بھی اپنا پھل لاتی ہے اور آخرت میں بھی۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹ مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۶ ) ۳البدر میں ہے۔’’قرآن کریم میں جہان لفظ ربّ آتا ہے اس کے معنے کا تعلق توبہ سے ہوتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹ مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۶ )