ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 279

چھوڑ کر بدی اور گند میں رہنا صرف خدا کی نافرمانی ہی نہیں ہے بلکہ اس میں خدا تعالیٰ پر ایمان میں بھی شک ہوتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو ایمان اس میں نہیں ہوتا اور زانی جب زنا کرتا ہے تو ایمان اس میں نہیں ہوتا۔یا د رکھو کہ وسوسہ جو بلا ارادہ دل میں پیدا ہوتے ہیں ان پر مؤاخذہ نہیں ہوتا جب پکی نیت انسان کسی کام کی کرے تو اللہ تعالیٰ مؤاخذ ہ کرتا ہے اچھا آدمی وہی ہے جو دل کو ان باتوں سے ہٹا دے۔ہرایک عضو کے گناہوں سے بچے۔ہاتھ سے کوئی بدی کا کام نہ کرے۔کان سے کوئی بری بات چغلی، غیبت، گلہ وغیرہ نہ سنے۔آنکھ سے محرمات پر نظر نہ ڈالے۔پا ئوں سے کسی گناہ کی جگہ چل کر نہ جاوے۔شریروں کے لئے مہلت بار با ر میں کہتا ہوں کہ تم لوگ طاعون سے بے خو ف نہ ہو اور یہ نہ سمجھو کہ اب اس کا دورہ ختم ہو گیا ہے۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو کیوں نہیں آتی اور وہ بدی پر مصر ہیں ان کو وہ ضرور پکڑ ے گی۔اس کا دستورہے کہ اول دور دور رہتی ہے۔اب دیکھو کہ مکہ میں قحط بھی پڑا، وبا بھی آئی لیکن ابو جہل کا بال بھی بانکا نہ ہوا حا لا نکہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کا سخت دشمن تھا۔چودہ ۱۴ برس تک خدا نے اسے ایسا رکھا کہ سر درد تک نہ ہوا۔آخر وہاں ہی قتل ہوا جہاں پیغمبر خدا نے اس کا نشان بتایا تھا۔اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سب کام پردے سے کرتا ہے اگر وہ قہری بجلی ایک دن دکھا دے تو سب ہندو وغیرہ مسلمان ہو جاویں۔تم میں سے کوئی تکبر اور غرور سے یہ نہ کہے کہ مجھے طاعون نہیں آتی۔خدا تعالیٰ شریروں کو اس لیے مہلت دیتا ہے کہ شاید باز آجاویں اور ہدایت ہو۔۱ الحکم سے۔’’ جو لوگ یہ کہہ بیٹھتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو ہم کو ہمارے گناہوں کے بدلے کیوں عذاب نہیں دیتا اور نہیں پکڑتا۔وہ دلیری کرتے ہیں اور نہیںجانتے کہ خدا تعالیٰ کے کام آہستہ اور پوشیدہ ہوتے ہیں۔اگر وہ قہری تجلی کرے تو یک لحظہ میں تباہ کردے۔دنیا میں بھی سارے کام تدریجی ہوتے ہیں اگر ایک شخص گُڑ یا ریوڑیاں تقسیم کرے تو یکدم سب کو نہیں دے دیتا بلکہ ایک ایک کرکے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ کا حال ہے۔پہلے وہ دُور دُوربلائیں بھیجتا ہے تا کہ بعض سعیدالفطرت لوگوں کو جو کسی شامت اعمال میں گرفتار ہوگئے ہیں توبہ واستغفار کا موقع ملے وہ بچ جاتے ہیں اور شریر پکڑے جاتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۹مورخہ۱۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ )