ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 278

اب ہم مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ شطرنج گنجفہ وغیرہ بیہودہ باتوں میں وقت گذارتے ہیں۔ان کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ اگر ہم ایک گھنٹہ نمازوں میں گذار دیں گے تو کیا حرج ہوگا؟ سچے آدمی کو خدا مصیبت سے بچا تا ہے اگر پتھر بھی برسیں تو بھی اسے ضرور بچاوے گا۔اگر وہ ایسا نہ کرے تو سچے اور جھوٹے میں کیا فرق ہوسکتا ہے؟ لیکن یاد رکھو کہ صرف ٹکریں مارنے سے خدا راضی نہیں ہوتا۔کیا دنیااور کیا دین میں جب تک پوری بات نہ ہو فائدہ نہیں ہوا کرتا۔جیسے میں نے کئی بار بیان کیا ہے کہ روٹی اور پانی جب تک سیر ہو کر نہ کھائے پئے تو وہ کیسے بچ سکتا ہے؟ یہ موت طاعون کی جو اَب آئی ہے یہ اس وقت ٹلے گی کہ انسان قدم پورا رکھے۱ ادھورے قدم کو خدا پسند نہیں کرتا۔بدی کو خدا کے خو ف سے چھو ڑدو جو بات طاقت سے باہر ہے وہ تو خدا معاف کر دے گا۔مگر جو طاقت کے اندر ہے اس سے مؤاخذہ ہوگا جب انسان نیک بنتا ہے تو دائیں با ئیں آگے پیچھے خدا کی رحمت اور فرشتے ہوتے ہیں سچا مومن ولی کہلا تا ہے اور اس کی برکت اس کے گھر اور اس کے شہر میں ہوتی ہے۔جو خدا کو ناراض کرتا ہے وہ نجاست کھاتا ہے۔اگر انسان بدی کو خدا کے خو ف سے چھو ڑ دے تو خدا اس کی جگہ نیک بدلہ اسے دیتا ہے۔مثلاً ایک چور اگر چوری کرتا ہے اور وہ چوری کو چھوڑ دیوے تو پھر خدا اس کی وجہ معاش حلال طور سے کر دے گا۔اسی طرح زمینداروں میں پانی وغیرہ چرانے کا دستور ہوتا ہے اگر وہ چھو ڑدیویں تو خدا ان کی کھیتی میں دوسری طرف سے برکت دےدے گا۔ایک نیک متقی زمیندار کے واسطے خدا تعالیٰ بادل کا ٹکڑا بھیج دیا کرتا ہے اور اس کے طفیل دوسرے کھیت بھی سیراب ہو جاتے ہیں خدا کو ۱ الحکم سے۔’’دیکھو آج کل طاعون بڑی خوفناک پڑی ہوئی ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اُ س کو بچالے گا۔عذابِ الٰہی سے بچنے کے لیے فقط زبانی اقرار ہی کافی نہیں اور نہ اُدھوری نمازیں کافی ہوسکتی ہیں۔بھلا ایک شخص جس کو پیاس شدت کی لگی ہوئی ہو کیاایک قطرہ پانی سے وہ اپنی پیاس بجھا سکتا ہے؟یا سخت بھوک لگی ہوئی ہو تو ایک ذرّہ بھر اناج سے پیٹ بھر سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔اسی طرح پر کوئی شخص اُدھوری اور ناقص نمازوں سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے غضب سے نہیں بچا سکتا پس اپنی نمازوں کو درست کرو ہر ایک قسم کی شکایت، گلہ، غیبت، جھوٹ، افترا،بد نظری وغیرہ سے اپنے تئیں بچائے رکھو۔ـ‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۹ مورخہ۱۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ )