ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 261

کوشش کرتی اور جانکاہ محنتوں سے ان کے حصول کے ذریعہ کو سوچتی ہے۔مگر دین کیا ایسا ہی گیا گذرا اَمر ہے کہ اس کے واسطے اتنی بھی تکلیف نہ برداشت کی جاوے کہ چند روز کے واسطے ایک جگہ رہ کر اسلام کی تحقیق کی جاوے۔ایک بیمار انسان جب کسی طبیب کے پاس جاتا ہے تو مریض کی اگر طبیب تشخیص کر بھی لیوے تو معالجہ میں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا دوا دی جاوے؟ ضرورتِ الہام ایک شہر میں پہنچ کر انسان پھر بھی کسی خاص جگہ پر پہنچنے کے واسطے کسی راہبر کا محتاج ہوتا ہے تو کیا دین کی راہ معلوم کرنے اور خدا کی مرضی پانے کے واسطے انسانی ڈھکونسلے کام آسکتے ہیں؟ اور کیا صرف سفلی عقل کافی ہوسکتی ہے؟ ہرگزہرگز نہیں جب تک اللہ تعالیٰ خود اپنی راہ کو نہ بتاوے اور اپنی مرضی کے وسائل کے حصول کے ذریعہ سے مطلع نہ کرے تب تک انسان کچھ کر نہیں سکتا۔دیکھو! جب تک آسمان سے پانی نازل نہ ہو زمین بھی اپنا سبزہ نہیں نکالتی گو بیج اس میں موجود ہی کیوں نہ ہو بلکہ زمین کا پانی بھی دور چلا جاتا ہے تو کیا رُوحانی بارش کے بغیر ہی رُوحانی زمین سر سبز ہو جاتی اور بار آور ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔خدا کے الہام کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔دیکھو! یہ جو اتنے بڑے عاقل کہلاتے ہیں اور بڑے مو جد ہیں آئے دن تار نکلتی ہے ریل بنتی ہے اور انسانی عقل کو حیران کر دینے والے کام کئے جاتے ہیں کیا ان کی عقل کے برابر بھی کوئی اورعقل ہے؟ جب ایسے عاقل لوگوں کا یہ حال ہے کہ ایک عاجز ا نسان کو جو ایک عورت کے پیٹ سے عام لڑکوں کی طرح سے پیدا ہو اتھا اور اسی طرح عوارض وغیرہ کا نشانہ بنا رہا اور کھانا پینا سب کچھ کرتا ہو ایہودیوں کے ہاتھ سے سولی پر چڑھایا گیا تھا اس کو خداوند بنایا ہو اہے اور اس کے کفارہ سے اپنی نجات جانتے ہیں اور ایسی بودی چال اختیا رکی ہے کہ ایک بچہ بھی اس پر ہنسی کرے۔اس کی کیا وجہ تھی؟ صرف یہی کہ انہوں نے سفلی عقل پر ہی بھروسا کیا اور ایک کوّے کی طرح نجاست پر گر پڑے۔دیکھو! جب انسان خدا سے مدد چاہتا ہے اور اپنے آپ کو عاجز جانتا ہے اور گردن فرازی نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد کرتا ہے ایک مکھی ہے کہ گندگی پر گرتی ہے اور دوسری کو خدا نے عزّت