ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 246

وجود تباہ ہونے والے دلوں کو بے قرار اور بے چین کرکے ایک رنگ میں ایک طرح سے خبر دیتا ہے اور ان کے دل بے قرار ہوتے ہیں۔کیونکہ دل اندر ہی اندر جانتے ہیں کہ یہ شخص ہمارا کا روبار تباہ کرنے آیا ہے۔اس واسطے نہایت اضطراب کی وجہ سے اس کے ہلاک کرنے کو اپنے تمام ہتھیا روں سے دوڑتے ہیں مگر اس کا خدا خود محافظ ہوتا ہے۔خدا خود اس کے واسطے طاعون کی طرح واعظ بھیجتا اور اس کے دشمنوں کے واعظوں پر اسے غلبہ دیتا ہے۔وہ خدا کے واعظ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔اب دیکھئے کہ اتنے لوگ جو ہر جمعہ کو جن کی نوبت اکثر پچاس ساٹھ تک پہنچ جاتی ہے ان کو کون بیعت کے لیے لاتا ہے؟ یہی طاعون کا ڈنڈاہے جو ان کو ڈرا کر ہماری طرف لے آتا ہے ورنہ کب جا گنے والے تھے اسی فر شتہ نے ان کو جگا یا ہے۔۱ ۲۸ ؍فروری ۱۹۰۳ء (دربارِ شام) دربارِ شام میں آریہ لوگوں میں سے چند لوگ حضرت اقدس کی زیارت کے واسطے آئے۔حضرت نے پوچھا آ پ بھی اس جلسہ کی تقریب پر آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ حضور ہم لوگ تو اصل میں یہ بات سن کر آئے ہیں کہ آپ کا بھی لیکچر ہوگا ورنہ ہماری اس جگہ آنے کی چنداں خواہش نہ تھی۔حضر ت اقدس نے فرمایا کہ مذہبی مباحثات کے آداب اصل بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر قوم میں کچھ شریف لوگ بھی ہوتے ہیں جن کا مقصد کسی بےجا حقارت یا کسی کو بےجا گالی گلوچ دینا یا کسی قوم کے بزرگوں کو بُرا بھلا کہنا ان کا مقصد نہیں ہوتا۔مگر ہم تو جو کام کرتے ہیں وہ خدا کے حکم اور اس کی اجازت اور اس کے اشارہ سے کرتے ہیں۔اس نے ہمیں اس قسم کے زبانی مبا حثا ت سے رو ک دیا ہوا ہے چنانچہ ہم کئی سال ہوئے کہ کتاب انجام آتھم میں اپنا یہ معاہدہ شائع بھی کر چکے ہیں اور ہم نے خدا سے عہد کیا ہے کہ زبانی مباحثات کی مجالس میں نہ جاویں گے۔۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۹ مورخہ ۱۰؍مارچ ۳ ۱۹۰ء صفحہ ۹،۱۰