ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 241

پہنچ سکتی۔وہاں یہ ہماری اس خدمت کو مفت اچھی طرح سے پورا کر رہے ہیں۔انہوں نے وقت کی تشخیص تو بالکل راست کی ہے۔مگر نتائج نکالنے میں سخت غلطی کرتے ہیں جو آنے والے کی انتظار آسمان سے کرتے ہیں۔ہر سچے نبی کے ساتھ کوئی نہ کوئی جھوٹا نبی بھی آتا ہے اب آئے دن سنا جاتا ہے کہ کسی نے دعویٰ کیا ہے کہ میں ہی مسیح ہوں جو آنے والا تھا یا میں مہدی ہوں جس کا انتظار کیا جاتا تھا۔یہ کچھ ہمارے لیے مضر نہیں ہیں یہ تو ہماری صداقت کو اور بھی دوبالا کرکے دکھاتا ہے کیونکہ مقابلہ کے سوا کسی کی بھلائی یا برائی کا پورا اظہار نہیں ہوسکتا۔یہ لوگ دعویٰ کرتے اور چند روز پانی اور جھاگ والا معاملہ کرکے دنیا سے ر خصت ہو جاتے یا پاگل خانہ کی سیر کو روا نہ کئے جاتے ہیں۔یہ ہماری صداقت پر مہر ہیں۔ہر نبی کے ساتھ کوئی نہ کوئی جھوٹا نبی بھی آتا ہے چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں چار شخص ایسے تھے۔اسی طرح اس زمانہ کے لیے بھی لکھا تھا کہ بہت سے جھوٹے نبی آویں گے سو یہ لوگ خود ہی اس پیشگوئی کو پورا کرتے ہیں بھلا کوئی بتاوے کہ وہ مہدی سوڈانی اب کہاں ہے؟ یا پیرس کا مسیح کیا ہو ا؟ انجام نیک صرف صادق ہی کا ہوتا ہے۔سارے جھوٹے اور مصنوعی آخر تھک کر رہ جاتے یا ہلاک ہو جاتے ہیں اور جھوٹھ کے انجام کا پتا دوسر وں کے لیے بطور عبرت کے چھو ڑجاتے ہیں۔۶؍ما رچ لیکھر ا م کے قتل کا دن لاہور کے آریہ پترکا نے لکھا ہے کہ ہمارا شہید ما رچ کی ۶ کو ایک بزدل مسلمان کے ہاتھ سے مارا گیا تھا اس دن کی یادگار قائم کرنی چاہیے کہ وہ دن بڑا متبرک جاننا چاہیے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اصل میں ہمارے یہاں کے آریہ بھول گئے۔ان کو بھی چاہیے تھا کہ ۶؍مارچ کا دن جلسہ کے واسطے مقرر کرتے اور ان لوگوں کو تو خصوصیت سے اس دن کی تعظیم کرنی چاہیے کیونکہ لیکھر ام اصل میں اس جگہ سے یہ تبرک لے گیا تھا۔