ملفوظات (جلد 4) — Page 240
عا دل گورنمنٹ بعض بادشاہوں کی معدلت گستری کے متعلق ذکر ہوا۔آپ نے فرمایا کہ ہما ری گورنمنٹ، ہم نے اسے غور سے دیکھا ہے کہ نازک معاملات میں بھی بلاتحقیق کے کوئی کارگذاری نہیں کرتی۔بغاوت جیسے خطرناک معاملات میں تو بلا تحقیق اور فردجرم اور ثبوت کے سوا گرفت کی نہیں جاتی۔تو دوسرے معاملات میں بھلا کہاں ایسا کرنے لگی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اَور حکّامِ وقت ہیں کہ ان کے نزدیک انسان تو گاجر مولی کی طرح بنے ہوئے ہیں کسی نے شکایت کی بس پکڑا اور قتل کردیا۔کوئی ضرورت نہیں کہ ثبوت کافی بہم پہنچایا جاوے یا کوئی لمبی تحقیقات کی جاوے۔دیکھئے ہمارا مقدمہ پادری والا بھی تو ایک بغاوت کے ہی رنگ میں تھا کیونکہ ایک پادری نے جو ان کے مذہب کا لیڈرا ور گرو مانا جاتا تھا اس نے ظاہر کیا تھا کہ گویا ہم نے اس کے قتل کا منصوبہ کیا ہے اور پھر اس پر بڑ ے بڑے اَور پادریوں کی سفارشیں بھی تھیں مگر بلا تحقیق کے ایک قدم بھی نہ اٹھایا گیا اور آخر کار قوم کی پروا نہ کرکے ہمیں بری کیاگیا۔غرض یہ بھی ہم پر خدا کا ایک فضل ہے کہ ایسی عا دل گورنمنٹ کے ماتحت ہیں۔(دربارِ شا م) مسیحؑ کی آمدِ ثانی امریکہ کے ایک انگریز کا اشتہار سنایا گیا جس میں اس نے لکھا ہے کہ مسیحؑ کی دوبارہ آمد وقت کایہی وقت ہے۔وہ کل نشانات پورے ہوگئے جو آمد ِثانی کے پیش خیمہ تھے اور اس نے اس بیان کو بڑے بشپوں اور فلاسفروں کی شہادتوں سے قوی کیا ہے۔حضر ت اقدس نے فرمایا کہ اصل میں ان کی یہ بات کہ مسیحؑ کی آمد ثانی کا وقت یہی ہے اور اس کے آنے کے تمام نشانات پورے ہو گئے ہیں بالکل ہمارے منشا کے مطابق ہے اور راستی بھی اسی میں ہے ان کی وہ بات جو حق ہو اور جہاں تک وہ راستی کی حمایت میں ہو اسے ردّ نہ کرنا چاہیے۔یہ لوگ ایک طرح سے ہماری خدمت کر رہے ہیں۔اس ملک میں جہاں ہماری تبلیغ بڑی محنت اور صرفِ کثیر سے بھی پوری طرح سے کما حقہ نہیں