ملفوظات (جلد 4) — Page 231
بجز اس کے اور کسی کھانے یا مکان یا خدمت کی پروا اور خیال بھی نہیں ہوتا مگر جب وہ اپنے صادق دوست کے پاس جو اس سے مہجور تھا جاتا ہے تو کیا وہ اس کی خاطرداری کا کوئی دقیقہ باقی بھی اٹھا رکھتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ جہاں تک اس سے بن پڑتا ہے وہ اپنی طاقت سے بڑ ھ کر بھی اس کی تواضع کے واسطے مکلّف سامان کرتا ہے۔غرض یہی حال روحانیت اور اس دوست اعلیٰ کی ملاقات کا ہے۔الہامات یا کشوف وغیرہ خبروں کے سہارے والا ایمان، ایمان کامل نہیں۔وہ کمزور ایمان ہے جو کسی چیز کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔انسان کی غرض اور اصل مد ار صرف رضاءِ الٰہی اور وصول الی اللہ چاہیے۔آگے جب یہ اس کی رضا حاصل کر لے گا تو خدا تعالیٰ اس کو کیا کچھ نہ دے گا۔خودا س اَمر کی درخواست کرنا سوءِ ادب ہے۔دیکھو! اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہےقُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(اٰل عـمران:۳۲)خدا کے محبوب بننے کے واسطے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی ایک راہ ہے اور کوئی دوسری راہ نہیں کہ تم کو خدا سے ملاوے۔انسان کا مدعا صرف اس ایک واحد لا شریک خدا کی تلاش ہونا چاہیے شرک اور بدعت سے اجتناب کرنا چاہیے رسوم کا تابع اور ہوا وہوس کا مطیع نہ بننا چاہیے۔دیکھو! میں پھر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی راہ کے سوا اور کسی طرح انسان کامیاب نہیں ہوسکتا۔ہمارا صرف ایک ہی رسولؐ اور ایک ہی کتاب ہے ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے۔اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہواہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں۔آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعائیں اور درود وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہیں۔سو تم ان سے پرہیز کرو۔ان لوگوں نے آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے خا تم الا نبیاء ہونے کی مہر کو توڑنا چاہا ہے گویا اپنی الگ ایک شریعت بنا لی ہے۔تم یاد رکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فر مان کی پیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریق