ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 227

اگر خدا تعالیٰ ہدایت نہ کرے ایک شور قیامت برپا ہوجاتا ہے ورنہ بعض گہرے تعلقات رکھنے والوں کو قطع تعلق کرنا پڑا ہے۔دنیا انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی یاد رکھو دنیا انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔یہ اس کی اپنی کمزوری ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کو نافع یا ضار سمجھتا ہے نفع اور ضرر اللہ ہی سے ملتا ہے۔ہماری مراد اس سے یہ ہے کہ انسان معرفت کی آنکھ سے خدا کو شناخت کرلے۔جب تک عملی طور پر خدا شناسی کو ثابت کر کے نہ دکھائے تو دہریہ ہے۔جھوٹ کے تمام شعبوں سے پرہیز کرو میں نے غور کیا ہے قرآن شریف میں کئی ہزار حکم ہیں ان کی پابندی نہیں کی جاتی ادنیٰ ادنیٰ سی باتوں میں خلاف ورزی کر لی جاتی ہے۔یہاں تک دیکھا جاتا ہے کہ بعض جھوٹ تو دوکاندار بولتے ہیں اور بعض مصالحہ دار جھوٹ بولتےہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے اس کو رجس کے ساتھ رکھا ہے۔مگر بہت سے لوگ دیکھے ہیں کہ رنگ آمیزی کر کے حالات بیان کرنے سے نہیں رکتے اور اس کو کوئی گناہ بھی نہیں سمجھتے۔ہنسی کے طور پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔انسان صدیق نہیں کہلا سکتا جب تک جھوٹ کے تمام شعبوں سے پرہیز نہ کرے۔گناہ کے چھوڑنے کا طریقہ انسان جب فسق و فجور میں پڑ جاتا ہے تو پھر ان لذّات کو کیسے چھوڑ سکتا ہے۔اس کے چھوڑنے کی ایک ہی راہ ہے کہ گناہ کی معرفت انسان کو ہو اور یہ معلوم ہوجاوے کہ اللہ تعالیٰ گناہ پر سزا دیتا ہے۔حیوان بھی جب معرفت پیدا کر لیتا ہے کہ یہ کام کروں گا تو سزا ملے گی تو وہ بھی اس سے بچتا ہے۔کتّے کو بھی اگر ایک چھڑی دکھائی جائے تو وہ بھاگتا ہے اور دہشت زدہ ہوجاتا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ انسان انسان ہو کر خدا سے اتنا بھی نہ ڈرے جتنا ایک حیوان سوٹے سے ڈرتا ہے۔بھیڑیئے کے پاس اگر بکری باندھ دی جاوے تو وہ گھاس نہیں کھا سکتی۔کیا اس بھیڑیئے جتنی دہشت بھی خدا کی نہیں ہے؟ انسان کے پیدا ہونے کی غرض اور غایت تو یہ ہے کہ وہ سچا ایمان پیدا کرے۔اگر یہ ایمان وہ