ملفوظات (جلد 4) — Page 224
یہ پکی بات ہے کہ آنے والا اسی اُمّت سے ہوگا اور حدیث عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْـرَآءِیْلَ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص مثیلِ مسیح بھی تو ہو۔اگرچہ محدّثین اس حدیث کی صحت پر کلام کرتے ہیں مگر اہلِ کشف نے اس کی تصدیق کی ہے اور قرآن شریف خود اس کی تائید کرتا ہے۔محدّثین نے اہلِ کشف کی یہ بات مانی ہوئی ہے کہ وہ اپنے کشف سے بعض احادیث کی صحت کرلیتے ہیں جو محدّثین کے نزدیک صحیح نہ ہوں اور ایسا ہی بعض کو غیر صحیح قرار دے سکتے ہیں۔یہ حدیث اہلِ کشف نے جن میں روحانیت اور تصفیہ قلب ہوتا ہے صحیح بیان کی ہے۔اور جیسا میں نے کہا ہے کہ قرآن شریف بھی اس کا مصداق ہے کیونکہ اس حدیث سے بھی سلسلہ موسوی کی طرح ایک سلسلہ کے قائم ہونے کی تصدیق ہوتی ہے اور قرآن شریف بھی سلسلہ موسویہ کے بالمقابل ایک سلسلہ قائم کرتا ہے۔اسی کی طرف علاوہ اور آیات قرآنی کے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ بھی اشارہ کرتا ہے یعنی جو پہلے نبیوں کو دیا گیا ہے ہم کو بھی عطا کر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سلسلہ چودہ سو برس تک رکھا گیا تھا۔جب اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو نابود کرنا چاہا اور اس قوم کو ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ ( اٰلِ عمران : ۱۰۳)کا مصداق بنا دیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کر کے یہ کہا کہ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا ( المزّمل : ۱۶ ) یعنی یہ سلسلہ موسوی سلسلہ کے بالمقابل ہے اور یہ عمارت موسوی عمارت کے مقابلہ پر ہے۔جیسے اس میں اخیار ہیں ویسے ہی اس میں بھی اخیار ہیں۔ایسا ہی اشرار بھی بالمقابل پائے جاتے ہیں یہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ اگر کسی یہودی نے ماں سے زنا کیا ہوگا تو تم میں سے بھی ایسے ہوں گے اور اگر کوئی سوسمار کے بل میں گھسا ہوگا تو مسلمان بھی گھسیں گے۔یہ کیسی مشابہت اور مماثلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہے اب تعجب ہے مسلمانوں پر کہ وہ یہ تو روا رکھتے ہیں کہ اس امت میں سے یہود بن جاویں اور یہ پسند نہیں کر سکتے کہ اس امت میں سے کوئی مسیح بھی ہوجاوے۔موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں مسیح کو بھیجا گیا تھا اسی مماثلت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ اس امت میں بھی اس صدی پر مسیح آئے تا کہ اس