ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 223

بولی جاتی تھی مگر اب خاتم النبّیّین کے بعد یہ مستقل نبوت رہی ہی نہیں۔اسی لیے کہا ہے۔؎ خارقے کز ولی مسموع است معجزہ آں نبی متبوع است پس اس بات کو خوب غور سے یاد رکھو کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نبوت کا شرف پہلے سے حاصل ہے تو کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ پھر آئیں اور اپنی نبوت کو کھو دیں۔یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مستقل نبی کو روکتی ہے۔البتہ یہ اَمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بڑھانے والا ہے کہ ایک شخص آپ ہی کی اُمت سے آپ ہی کے فیض سے وہ درجہ حاصل کرتا ہے جو ایک وقت مستقل نبی کو حاصل ہوسکتا تھا۔لیکن اگر وہ خود ہی آئیں تو پھر صاف ظاہر ہے کہ پھر اس خاتم الانبیاء والی آیت کی تکذیب لازم آتی ہے اور خاتم الانبیاء حضرت مسیح ٹھہریں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا بالکل غیر مستقل ٹھہر جاوے گا کیونکہ آپؐپہلے بھی آئے اور ایک عرصہ کے بعد آپ رخصت ہوگئے اور حضرت مسیح آپؐسے پہلے بھی رہے اور آخر پر بھی وہی رہے۔غرض اس عقیدہ کے ماننے سے کہ خود ہی حضرت مسیح آنے والے ہیں بہت سے مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور ختم نبوت کا انکار کرنا پڑتا ہے جو کفر ہے۔اس کے علاوہ قرآن شریف کی ایک اَور آیت بھی جو صاف طور پر مسیح کی آمدِ ثانی کو روکتی ہے اور وہ وہی آیت ہے جو کل بھی میں نے بیان کی تھی یعنی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (المائدۃ:۱۱۸) اگر حضرت مسیح قیامت سے پہلے دنیا میں آئے تھے اور چالیس برس تک رہ کر انہوں نے کفّار اور مشرکین کو تباہ کیا تھا جیساکہ اعتقاد رکھا جاتا ہے۔پھر کیا خدا تعالیٰ کے سامنے ان کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ یا یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں نے تو کافروں اور مشرکوں کو ہلاک کیا اور ان کو جا کر اس شرک سے نجات دی کہ تم مجھ کو اور میری ماں کو خدا نہ بنائو۔اس آیت پر خوب غور کرو۔یہ ان کی دوبارہ آمد کو قطعی طور پر ردّ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ختمِ نبوت والی آیت بھی ان کو دوبارہ آنے نہیں دیتی۔اب یا تو قرآن شریف کا انکار کرو یا اگر اس پر ایمان ہے تو پھر اس باطل خیال کو چھوڑنا پڑے گا اور اس سچائی کو قبول کرنا پڑے گا جو میں لے کر آیا ہوں۔