ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 15

کے لوگ تو حُسن سے فائدہ اُٹھاتے اور جو اُن سے کم درجہ پر ہوں وہ احسان سے فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔لیکن جو ایسے ہی پلید طبع ہوں اُن کو اپنے جلال اور غضب سے متوجہ کیا ہے۔یہودیوں کو مغضوب کہاہے او ران پر طاعون ہی پڑی تھی۔خدا تعالیٰ نے سورۃفاتحہ میں یہودیوں کی راہ اختیار کرنے سے منع فرمایا۔یا یوں کہو کہ طاعون کے عذابِ شدید سے ڈرایا ہے۔شیطان بےباک انسان پرایساسوار ہے کہ وہ سُن لیتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔اصل یہ ہے کہ جب تک جذبات اور شہوات پر ایک موت وارد ہو کر اُنہیں بالکل سرد نہ کردے خدا تعالیٰ پر ایمان لانا مشکل ہے۔اب تو غضبِ الٰہی کے نمونے خطرناک ہیں ابھی تین مہینے باقی ہیں خدا جانے کیا ہونے والا ہے۔مخالفین کے لیے لمحہ فکریہ مخالفوں کی خطرناک فحش تحریروں پر فرمایا کہ ہمارے اور اُن کے دل اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔خدا تعالیٰ نیتوں کو خوب جانتا ہے اور ان افعا ل کو جو ہم کر رہے ہیں دیکھتا ہے۔وہ خود فیصلہ کر دے گا او رسچائی پر اپنی مُہر کر دے گا۔ہم کو تویہ تعجب آتاہے کہ اگر یہ لوگ تقویٰ اور خداترسی سے کام لیتے تو خوف کے محل اور مقام سے ڈر جاتے اور مخالفت میں اس قدر زبان درازی نہ کرتے۔وہ دیکھتے کہ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ مسیح موعود نازل ہو؟ کیا صلیب کا غلبہ نہیں؟ کیا اسلام کی توہین اور تضحیک نہیں کی جاتی؟ وہ دیکھتے کہ صدی میں سے انیس سال گذر گئے اور کوئی مدّعی کھڑانہ ہوا جو درماندہ اسلام کی حمایت کے لیے میدان میں آتا۔پھر ضرورت اور وقت ہی پر اپنی نگاہ محدود نہ رکھتے اگر وہ غور کرتے تو اُن کو معلوم ہوتا کہ آسمان نے صاف شہادت دے دی اور کسوف خسوف ظاہر ہوگیا جو عظیم الشّان نشان مقرر ہو چکاتھا۔تائیدی نشانوںکی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے وہ اُسے دیکھتے اور سلسلہ کی ترقیات پر غور کرتے اور سوچتے کہ کیا مفتری اسی طرح ترقی کیا کرتے ہیں؟ ان سب اُمور پر یکجائی نظر کے بعد تقویٰ کا تقاضاتو یہ تھا کہ اس قدر بیّن شواہد کے ہوتے ہوئے بھی اگر ان کی نگاہ تاریک تھی تو وہ خاموش ہو جاتے او رصبر سے انتظار کرتے کہ انجام کیا ہوتا ہے؟ مگر