ملفوظات (جلد 4) — Page 181
نہیںرکھتا تو میری دعا اُس کو کیا فائدہ دے گی۔لیکن اگر وہ صاف دل ہے اور کوئی کھوٹ نہیںرکھتا تو مَیری دعا اس کے لیے نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ ہوگی۔زمینداروں کو دیکھا جاتا ہے کہ دو دو پیسے کی خاطر خدا کو چھوڑ دیتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ خدا انصاف اور ہمدردی چاہتا ہے اور وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ فسق، فحشاء اور بے حیائی سے باز آویں جو ایسی حالت پیدا کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے فرشتے ان کے ساتھ ہوتے ہیں مگر جب دل میں تقویٰ نہ ہو اور کچھ حصہ شیطان کا بھی ہو تو خدا شراکت پسند نہیں کرتا اور وہ سب چھوڑ کر شیطان کا کر دیتا ہے کیونکہ اس کی غیرت شرکت پسند نہیں کرتی۔پس جو بچنا چاہتا ہے اس کو ضروری ہے کہ وہ اکیلا خدا کا ہو مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ خدا تعالیٰ نے کبھی کسی صادق سے بے وفائی نہیں کی ہے۔ساری دنیا بھی اگر اُس کی دشمن ہو اور اس سے عداوت کرے تو اُس کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتی۔خدا بڑی طاقت ہے اور قدرت والا ہے اور انسان ایمان کی قوت کے ساتھ اس کی حفاظت کے نیچے آتا اور اس کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات دیکھتا ہے پھر اس پر کوئی ذلّت نہ آوے گی۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ زبردست پر بھی زبر دست ہے بلکہ اپنے اَمر پر بھی غالب ہے سچے دل سے نمازیں پڑھو اور دعائوں میں لگے رہو اور اپنے سب رشتہ داروں اور عزیزوں کو یہی تعلیم دو پُورے طور پر خدا کی طرف ہو کر کوئی نقصان نہیں اُٹھاتا۔نقصان کی اصل جڑ گُناہ ہے۔ساری عزّتیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔دیکھو! بہت سے ابرار اخیار دنیا میں گذرے ہیں۔اگر وہ دنیادار ہوتے تو ان کے گذارے ادنیٰ درجہ کے ہوتے اور کوئی ان کو پوچھتا بھی نہیں۔مگر وہ خدا کے لیے ہوئے اور ساری دنیا کو ان کی طرف کھینچ لایا۔خدا تعالیٰ پر سچا یقین رکھو اور بدظنی نہ کرو۔جب اِس کی بدبختی سے خد اپر بدظنی ہوتی ہے تو پھر نہ نماز درست ہوتی ہے نہ روزہ نہ صدقات۔بدظنی ایمان کے درخت کو نشو و نما ہونے نہیں دیتی بلکہ ایمان کا درخت یقین سے بڑھتا ہے۔میں اپنی جماعت کو باربار اسی لیے نصیحت کرتا ہوں کہ یہ موت کا زمانہ ہے۔اگر سچے دل سے ایمان لانے کی موت کو اختیار کرو گے تو ایسی موت سے زندہ ہو جائو گے اور ذلّت کی موت سے