ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 180

مگر جو خاص ایمان رکھتا ہو اور ہر حال میں خدا کے ساتھ ہو اور دکھ اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس سے دکھ اٹھا لیتا ہے اور دو مصیبتیں اس پر جمع نہیں کرتا۔دکھ کا اصل علاج دکھ ہی ہے اور مومن پر دو بلائیں جمع نہیں کی جاتیں۔ایک وہ دکھ ہے جو انسان خدا کے لیے اپنے نفس پر قبول کرتا ہے اور ایک وہ بلائے ناگہانی، اس بَلا سے خدا بچا لیتا ہے۔پس یہ دن ایسے ہیں کہ بہت توبہ کرو۔اگرچہ ہر شخص کو وحی یا الہام نہ ہو مگر دل گواہی دے دیتا ہے کہ خدا اسے ہلاک نہ کرے گا۔دنیا میں دو دوستوں کے تعلقات ہوتے ہیں۔ایک دوست دوسرے دوست کا مرتبہ شناخت کرلیتا ہے کیونکہ جیسا وہ اس کے ساتھ ہے ویسا ہی وہ بھی اس کے ساتھ ہوگا۔دل کودل سے راہ ہوتی ہے۔محبت کے عوض محبت اور دغا کے عوض میں دغا۔خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ میں اگر کوئی حصہ کھوٹ کا ہوگا تو اسی قدر ادھر سے بھی ہوگا۔مگر جو اپنا دل خدا سے صاف رکھے اور دیکھے کہ کوئی فرق خدا سے نہیں ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس سے کوئی فرق نہ رکھے گا۔انسان کا اپنا دل اس کے لیے آئینہ ہے وہ اس میں سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔پس سچا طریق دُکھ سے بچنے کا یہی ہے کہ سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو اور وفاداری اور اخلاص کا تعلق دکھائو اور اس راہِ بیعت کو جو تم نے قبول کی ہے سب پر مقدم کرو کیونکہ اس کی بابت تم پوچھے جائو گے۔جب اس قدر اخلاص تم کو میسر آجاوے تو ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو ضائع کرے۔ایسا شخص سارے گھر کو بچا لے گا۔اصل یہی ہے اس کو مت بھولو۔نری زبان میں برکت نہیں ہوتی کہ بہت سی باتیں کرلیں۔اصل برکت دل میں ہوتی ہے اور وہی برکت کی جڑ ہے۔زبان سے تو کروڑہا مسلمان کہلاتے ہیں جن لوگوں کے دل خدا کے ساتھ مستحکم ہیں اور وہ اس کی طرف وفا سے آتے ہیں خدا بھی ان کی طرف وفا سے پیش آتا ہے اور مصیبت اور بلا کے وقت ان کو الگ کر لیتا ہے۔یاد رکھو یہ طاعون خودبخود نہیں آئی بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے جو اپنے وقت پر آئی ہے اب جو کھوٹ اور بےوفائی کا حصہ رکھتا ہے وہ بلا اور وبا سے بھی حصہ لے گا مگر جو ایسا حصہ نہیںرکھتا خدا اسے محفوظ رکھے گا۔مَیں اگر کسی کے لیے دعا کروں اور خدا کے ساتھ اس کا معاملہ صاف نہیں ہے وہ اس سے سچا تعلق