ملفوظات (جلد 4) — Page 166
پیش کررہا ہے۔حاکم نے مِثل اُٹھا کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو میں نے باریک نظر سے دیکھا کہ ایک کُرسی اس کے ایک طرف خالی پڑی ہوئی معلوم ہوئی۔اُس نے مجھے کہا کہ اس پر بیٹھو اور اس کی مثل ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔اتنے میں میں بیدار ہوگیا۔پھر فرمایا کہ جس طرح میرے کرتے والی خواب ہے جس پر سُرخ روشنائی کے چھینٹے پڑے تھے ویسے ہی ایک خواب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ہے کہ ایک دفعہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ جنّت کے باغوں میں سے ایک سیب آپ نے لیاہے۔پھر اسی وقت بیدار ہوئے تو دیکھا کہ وہ سیب ہاتھ میں ہی ہے۔ایمان کی حالت فرمایاکہ کوئی خدا پر ایمان نہیںرکھتا جب تک کہ وہ خود نشان نہ دیکھے یا اس کی صحبت میں رہے جو کہ ان نشانوں کو دیکھنے والا ہے۔خدا تعالیٰ اگر چاہے تو ان سب مخالفوں کو ایک دَم میں ہی ہلاک کر دیوے مگر پھر ہم اور ہمارا سلسلہ بھی ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے۔مخالفین کا شور و غوغا دراصل عمر کو بڑھاتا ہے۔خدا تعالیٰ بے شک سب کچھ کرے گا ان کو ذلیل وخوار بھی کرے گا لیکن وہ مالک ہے خواہ ایک دم کر دے خواہ رفتہ رفتہ کرے۔خدا تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرت ہے کہ جب ایک شخص کو اپنی طرف سے بھیجتا ہے تو خود بخود دو گروہ بن جاتے ہیں۔ایک شقی اور ایک سعید۔مگر یہ زمانہ گاہے گاہے یہ وہ زمانہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے۔دوسرا زمانہ شکوک وشبہات کا ہوتا ہے۔۱ ختم نبوت فرمایا اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ(الـجمعۃ:۴) کے قائم مقام توریت کی ایک آیت تھی جس سے مسیح اسرائیلی کا گروہ مراد تھا اور یہاں اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ سے ہمارا گروہ۔الحکم میں یہ عبارت یوںدرج ہے۔فرمایا۔’’عجب قدرت الٰہی ہے کہ جب ایک شخص کو مامور کرکے بھیجتا ہے تو خود بخود سعید اور شقی دو گروہ بن جاتے ہیں۔یہ وقت ہوتا ہے کہ خدا اپنا چہرہ دکھاتا ہے ورنہ اس سے پہلے جو زمانہ ہوتا ہے وہ شکوک و شبہات کا ہوتاہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴)