ملفوظات (جلد 4) — Page 165
(بوقتِ عصر) حضرت اقدس نے تھوڑی دیر مجلس کی اور ثناء اللہ کے قادیان میں آنے کا ذکر ہوتا رہا۔آپ نے فرمایا کہ ہم نے تو اسے بہت وسعت دی تھی جس قدر چاہتا ہر ہر گھنٹہ کے بعد تین چار سطریں لکھ کر پیش کیا کرتا اور اگر اسے بیان کرنے کی نوبت دی جاتی تھی تو بھی اس کی شامت تھی کہ اسے بہرحال جھوٹ سے کام لینا پڑتا۔اخبار والوں اور عوام الناس کی شرارتوں اور خلافِ واقعہ بیانات کی نسبت فرمایا کہ اب ہماری جماعت کو چپ ہی رہنا چاہیے۔کچھ جواب نہ دیویں۔خدا ہی ان لوگوں سے سمجھے گا۔تعجب ہے کہ ثناء اللہ نے بالکل لیکھرام والی چال اختیار کی ہے جس کی غرض مباحثہ سے اظہارِ حق نہ ہو اس سے مباحثہ کرنا لا حاصل ہے۔یہ کاروبار اب زمین پر نہیں رہا بلکہ آسمان پر ہے۔(قبل از عشاء) حضرت اقدس مولوی عبداللطیف خان صاحب سے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر کرتے رہے اور پھر اپنے چند ایک رؤیا بتلائے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ عدالت کی جو کارروائی جیسے زمین پر جاری ہے ویسا ہی طریق خدا تعالیٰ نے بھی اختیا رکیاہوا ہے۔منجملہ ان کے ایک خواب تو وہ بیان کی جس میں سُرخی کے چھینٹے آپ کے لباس مبارک پر پڑے تھے۔۱ حالانکہ وہ واقعہ آپ نے خواب میں دیکھا تھا۔اور ایک خواب آپ نے یہ بیان کیا کہ مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہوں۔میں منتظر ہوں کہ میرا مقدمہ بھی ہے اتنے میں جواب ملا اِصْبِرْ سَنَفْرُغُ یَا مِرْزَا۔پھر میں ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں کچہری میں گیا ہوں۔دیکھا تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور ایک طرف ایک سر رشتہ دار ہے کہ ہاتھ میں ایک مِثل لیے ہوئے ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۷