ملفوظات (جلد 4) — Page 134
ہے۔جس طرح پر ہم ادویات کے اثرکو تجربہ کے ذریعہ سے پا لیتے ہیں اسی طرح پر ایک مضطرب الحال انسان جب خدائے تعالیٰ کے آستانہ پر نہایت تذلّل اور نیستی کے ساتھ گرتا ہے اور رَبِّیْ رَبِّیْ کہہ کر اس کو پکارتا اوردعائیں مانگتا ہے تو وہ رؤیائے صالحہ یاالہامِ صحیح کے ذریعہ سے ایک بشارت اورتسلّی پالیتا ہے۔میں نے اپنے ساتھ بارہا اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ دیکھا ہے کہ جب میں نے کرب وقلق سے کوئی دعا مانگی اللہ تعالیٰ نے مجھے رئویا کے ذریعہ سے آگاہی بخشی۔ہاں قلق اور اضطرار اپنے بس میں نہیں ہوتا۔اس کا انشا بھی فعلِ الٰہی ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب صبر اور صدق کے ساتھ دعا انتہا کو پہنچے تو وہ قبول ہوجاتی ہے۔دعا، صدقہ اور خیرات سے عذاب کاٹلناایک ایسی ثابت شدہ صداقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کااتفاق ہے اور کروڑہا صلحاء واتقیاء اور اولیاء اللہ کے ذاتی تجربے اس اَمر پر گواہ ہیں۔نماز کی لذّت اور سرور نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے۔مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدائے تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے اس کی غناءِ ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو۔بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادت اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہورہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہیے وہ مزا نہیں آتا۔دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذّت اور ایک خاص حظّ اللہ تعالیٰ نے رکھا نہ ہو۔جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیزکا مزہ نہیں اُٹھا سکتا اور وہ اسے تلخ یا بالکل پھیکا سمجھتا ہے اسی طرح سے وہ لوگ جو عبادتِ الٰہی میں حظّ اور لذّت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہیے۔کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذّت نہ رکھی ہو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا