ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 122

گے وہ کسی ثواب کی امید نہ رکھیں ایسا تو ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سب حجاب دور کر دے گا اور اس معاملہ کو آفتاب کی طرح کھول کر دکھا دے گا مگر اس وقت ماننے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔پیغمبروں کو ماننے والوں میں ثواب اَوَّلُوْن کو سب سے بڑھ کر ملا ہے اور انکشاف کا زمانہ تو ضرور آتا ہے لیکن آخر ان کا نام ناس ہی ہوتا ہے۔(اس مقام پر مولانا مولوی سیّد محمد احسن صاحب امروہی نے عرض کیا کہ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ کے جواب میں یہی کہاکہ تمہارا ایمان اُس دن فائدہ نہ دے گا )۔فرمایا۔بے شک اس بات کوسمجھنا سعادت ہے جس نے اوّل زمانہ میں نہیں پایا اُس کی کوئی قابلیت اور خوبی نہیں۔لیکن جب خدا نے کھول دیا اس وقت تو پتھر اور درخت بھی بولتے ہیں۔زیادہ قابلِ قدر وہ شخص ہے جو اوّل قبول کرتا ہے جیسے حضرت ابو بکر ؓ نے قبول کیا آپ نے کوئی معجزہ نہیں مانگا اور آپ کے منہ سے ابھی نہیں سنا تھا کہ ایمان لے آئے۔لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنی تجارت پر گئے ہوئے تھے اور جب سفر سے واپس آئے تو ابھی مکہ میں نہیں پہنچے تھے کہ راستہ میں کوئی ایک شخص آپ کو ملا اور اس سے مکہ کے حالات پوچھے۔اُس نے کہا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں۔سب سے بڑھ کرتازہ خبریہی ہے کہ تمہارے دوست نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ سن کر کہا کہ اگر اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ سچاہے۔اب غور سے دیکھو کہ حضرت ابو بکرؓ نے اس وقت کوئی نشان یا معجزہ نہیں مانگا بلکہ سنتے ہی ایمان لے آئے اور دعویٰ خود آنحضرتؐکے منہ سے بھی نہیں سنا بلکہ ایک اور شخص کی زبانی سنا ہے اور فوراً تسلیم کر لیا۔یہ کیسا زبردست ایمان ہے روایت بھی آنحضرتؐکے نام سے سن کر اُس میں جھوٹ کا احتمال نہیں سمجھا۔۱ دیکھو! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوئی نشان نہیں مانگا۔یہی وجہ تھی کہ آپ کا نام صدیق ہوا۔سچائی سے بھرا ہوا۔صرف منہ دیکھ کر ہی پہچان لیا کہ یہ جھوٹا نہیں ہے۔پس صادقوں کی شناخت اور ان ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱تا ۳