ملفوظات (جلد 4) — Page 117
سلسلہ کی مخالفت خان عجب خان صاحب۔ایک بار میں پادریوں کے اعتراضوں سے بہت ہی تنگ ہوگیا وہ میرے لڑکپن کا زمانہ تھا۔اس وقت میں نے دعا کی کہ اے اللہ! اسلام کو غالب کر۔خدا کا شکر ہے کہ وہ وقت اب آگیا مگر مجھے افسوس ہے کہ اس نصرت کے وقت لوگ مخالفت کرتے ہیں۔حضرت اقدس۔یہ بالکل سچ ہے عیسائیوں نے اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔جس جس طرح سے ان کا قابو چلا انہوں نے اسلام کے شجر پر تبر چلایا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ آپ اس کا محافظ اور ناصر تھا اس لیے وہ اپنے ارادوں میں مایوس اور نامراد ہوئے۔اور یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ اس وقت (جب ایسی حالت ہورہی تھی اور یہ، اسلام کی اس قدر مخالفت کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے یہ سلسلہ عظمتِ رسوم۱ کو قائم کرنے کے واسطے کھڑا کیا اور اس کی تائید اور نصرت ہر ایک پہلو سے کی ) وہ بجائے اس کے کہ اس سلسلہ کی قدر کرتے اور اس پیاسے کی طرح جس کو ٹھنڈے اور برف آب پانی کا پیالہ مل جاوے شکر کرتے، انہوں نے مخالفت شروع کی اور اسی طریق پر جو ہمیشہ سے سنّت اللہ چلی آتی ہے ہنسی اور استہزا سے کام لیا۔خدا تعالیٰ کے نشانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور ان سے منہ پھیر لیا۔مجھے ان لوگوں کی حالت پر رحم اور افسوس آتاہے کہ یہ کیوں غور نہیں کرتے اور منہاجِ نبوت پر اس سلسلے کی سچائی کو نہیں سمجھتے۔صداقت کے دلائل وہ دیکھتے کہ اس قدر نصرتیں اور تائیدیں جو اللہ تعالیٰ کر رہا ہے کیا یہ کسی مفتری اور کذاب کوبھی ملی سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔کوئی شخص نصرتِ الٰہی کے بغیر اس قدر دعویٰ کب کرسکتا ہے۔کیا وہ تھکتا نہیں؟ اور پھر اللہ تعالیٰ مفتری کے لیے اس قدر غیرت نہیں دکھاتا کہ اسے ہلاک کرے؟ بلکہ اس کو مہلت دیتا جاتا ہے اور نہ صرف مہلت بلکہ اُس کی پیشگوئیوں کو بھی سچا کر دیتا ہے اور دوسرے لوگوں کے مقابلے میں جو اس کی مخالفت کرتے ہیں اسی کی تائید کرتا ہے اور اسی کو فتح دیتا ہے۔انسانی حکومت کے مقابلہ میں اگر کوئی شخص افترا کرتا ہے اور ۱ سہو ہے ’’اسلام ‘‘ ہونا چاہیے۔(مرتّب)